
Shaista Mufti
Shaista Mufti
Shaista Mufti
Ghazalغزل
ai mire dil ye tire dar pe jo dastak si hai
اے مرے دل یہ ترے در پہ جو دستک سی ہے مجھ کو لگتا ہے ہواؤں نے محبت کی ہے میں نے تنہا ہی سنبھالا ہے خزانے کو ترے زندگی تجھ سے ہر اک رنگ میں الفت کی ہے راز اب راز نہیں کوئی تری محفل میں بن پیے بھی ترے لہجے میں جو لرزش سی ہے لوٹ جاتے ہیں سبھی اپنے گھروندوں کی طرف دل ویراں نے سر شام یہ حجت کی ہے یوں تپش مجھ کو جلائے ہے رلائے ہے مگر شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتی ہے کہر سا پھیلتا جاتا ہے مری صبحوں میں ہاتھ جلتے ہیں جو تاروں کی طلب ہوتی ہے
ik qissa-e-paarina dhundlaa saa hai aaina
اک قصۂ پارینہ دھندلا سا ہے آئینہ گنجینۂ گوہر ہے یادوں سے بھرا سینہ کیوں آنکھ چراتے ہیں ملتے ہیں جو محفل میں اک وقت میں اپنے تھے یہ ہمدم دیرینہ بہتا ہوا پانی بھی تھم جائے نہ جنبش سے چھیڑو نہ کوئی نغمہ خاموش ہے سازینہ اک کن کی صداؤں میں مدہوش غم ہستی ہم رقص مہ و انجم چھلکے ہیں مے و مینا آنکھوں میں لئے وحشت ساحل سے الجھتے ہیں طوفانوں کی چاہت میں مرنا بھی ہے اب جینا اک قصۂ پارینہ ہے دھند کے رستے میں تا حد نظر دیکھوں تخلیق کا آئینہ





