
Shakeel Shamsi
Shakeel Shamsi
Shakeel Shamsi
Ghazalغزل
sang majnun pe laDakpan mein uThaayaa kyuun thaa
سنگ مجنوں پہ لڑکپن میں اٹھایا کیوں تھا یاد غالب کی طرح سر مجھے آیا کیوں تھا بات اب یہ نہیں کیوں چھوڑا تھا اس نے مجھ کو بات تو یہ ہے کہ وہ لوٹ کے آیا کیوں تھا کتنے معصوم صفت لوگ تھے سمجھے ہی نہیں اس نے پر توڑ کے تتلی کو اڑایا کیوں تھا جس کے ہاتھوں میں نظر آتے تھے پتھر کل تک اس نے ہی میری طرف پھول بڑھایا کیوں تھا اب وہ اپنے کو خدا سمجھے تو غلطی کیا ہے من کے مندر میں اسے تم نے بسایا کیوں تھا
kisi ki aankh se aansu Tapak rahe honge
کسی کی آنکھ سے آنسو ٹپک رہے ہوں گے تمام شہر میں جگنو چمک رہے ہوں گے چھپا کے رکھے ہیں کپڑوں کے بیچ میں اس نے مرے خطوط یقیناً مہک رہے ہوں گے کھلی ہے دھوپ کئی دن کے بعد آنگن میں پھر الگنی پہ دوپٹے لٹک رہے ہوں گے وہ چھت پہ بال سکھانے کو آ گئی ہوگی نہ جانے اب کہاں بادل بھٹک رہے ہوں گے مرے جلائے ہوئے سرخ سرخ انگارے تمہارے ہونٹوں پہ اب تک دہک رہے ہوں گے
teri nazar ke saamne ye dil nahin rahaa
تیری نظر کے سامنے یہ دل نہیں رہا آئینہ آئنہ کے مقابل نہیں رہا اچھا ہوا کہ وقت سے پہلے بچھڑ گیا بربادیوں میں تو مری شامل نہیں رہا مجھ کو سمجھ رہا تھا جو ماضی کی اک کتاب وہ بھی نئے نصاب میں شامل نہیں رہا لوٹ آئیں پھر سے کشتیاں طوفاں سے ہار کر ویراں بہت دنوں مرا ساحل نہیں رہا منصف کی انگلیوں کے نشاں خنجروں پہ ہیں اب کوئی اپنے شہر میں قاتل نہیں رہا ہر اک قدم پہ رکھا ہے دل کا بہت خیال اس کی طرف سے میں کبھی غافل نہیں رہا رقصاں ہے چارہ گر کے اشاروں پہ آج کل اب دل بھی اعتبار کے قابل نہیں رہا
zindagi yuun to bahut ayyaar thi chaalaak thi
زندگی یوں تو بہت عیار تھی چالاک تھی موت نے چھو کر جو دیکھا ایک مٹھی خاک تھی جاگتی آنکھوں کے سپنے دل نشیں تو تھے مگر میرے ہر اک خواب کی تعبیر ہیبت ناک تھی آج کانٹے بھی چھپائے ہیں لبادوں میں بدن اک زمانے میں تو فصل گل بھی دامن چاک تھی تھا ہمیں بھی ہر قدم پہ ناک کٹ جانے کا ڈر ان دنوں کی بات ہے جب اپنے منہ پر ناک تھی تھا لڑکپن کا زمانہ سرفروشی سے بھرا ہم اسی تلوار پر مرتے تھے جو سفاک تھی دوستوں کے درمیاں سچ بولتے ڈرتا ہے وہ دشمنوں کی بھیڑ میں جس کی زباں بے باک تھی





