
Shakir Husain Islahi
Shakir Husain Islahi
Shakir Husain Islahi
Ghazalغزل
koi jhuTaa qayaas rahne do
کوئی جھوٹا قیاس رہنے دو مجھ سے ملنے کی آس رہنے دو جشن گریہ کا اہتمام کرو زندگی ہے اداس رہنے دو زخم دل کے ہرے دکھائی دیں اس حویلی میں گھاس رہنے دو چاندنی چھپ گئی ہے بادل میں چاند کو بد حواس رہنے دو شمع جگنو چراغ بے چینی رات کے آس پاس رہنے دو ملتمس ہو کے کیا ملا شاکرؔ مت کرو التماس رہنے دو
ranj-o-gham kaa malaal kyaa karte
رنج و غم کا ملال کیا کرتے اس سے ہم عرض حال کیا کرتے جو ہمارا کبھی ہوا ہی نہیں اس سے دل کا سوال کیا کرتے قفل غیرت پڑا تھا ہونٹوں پر ہم کسی سے سوال کیا کرتے سامنے تھی اداس تنہائی کوئی رنگیں خیال کیا کرتے سونپ کر مطمئن تھے ہم ان کو دل کی پھر دیکھ بھال کیا کرتے جن کو ہم نے سنبھال رکھا تھا وہ ہمارا خیال کیا کرتے وقت نے توڑ دی انا شاکرؔ ورنہ وہ پائمال کیا کرتے
jism kaa bojh kam kiyaa jaae
جسم کا بوجھ کم کیا جائے سر ہمارا قلم کیا جائے چشم خوناب دیکھنا ہے اگر خون پانی میں ضم کیا جائے صرف اتنا سا مشورہ ہے مرا ہر کہیں سر نہ خم کیا جائے آنسوؤں سے لکھیں فسانۂ غم تھوڑا کاغذ بھی نم کیا جائے آ گئے ہیں وہ خواب گاہ میں اب ان چراغوں کو کم کیا جائے اب بھی کچھ اعتراض ہے مجھ کو غم دوبارہ رقم کیا جائے ایک شیطان نے کہا شاکرؔ اب مجھے محترم کیا جائے
khvaahish-e-qatl-e-aam karne lage
خواہش قتل عام کرنے لگے اپنا جینا حرام کرنے لگے منزلیں دور ہی رہیں ان سے جو مسافر قیام کرنے لگے وہ یہ سمجھے کہ کچھ ضرورت ہے ہم انہیں جب سلام کرنے لگے ان اندھیروں کے حوصلے دیکھو روشنی زیر دام کرنے لگے عشق چھوٹا تو ہوش میں آئے ہم بھی اب کام دھام کرنے لگے ہوش اڑنے لگے ہیں خاروں کے پھول جب سے کلام کرنے لگے زندگی کی صلیب ٹوٹ گئی موت کا انتظام کرنے لگے زندگی کے اداس دریا میں کچھ سمندر قیام کرنے لگے یہ ہے معراج تشنگی شاکرؔ چڑھتے دریا سلام کرنے لگے
kis ki yaadon kaa faiz jaari hai
کس کی یادوں کا فیض جاری ہے کس لئے اتنی آہ و زاری ہے سی لئے ہونٹ پی لئے آنسو یہ ہی تہذیب انکساری ہے کس کی یادوں میں جاگتے ہو تم کس کے خوابوں کی ذمہ داری ہے صرف عنواں بدل دیا تم نے ورنہ یہ داستاں ہماری ہے جتنے احسان ہیں تمہارے ہیں جو خطا ہے فقط ہماری ہے میرؔ صاحب بھی خوب کہتے ہیں عشق پتھر ہے اور بھاری ہے بہہ رہی ہے فرات غم شاکرؔ آنسوؤں کی سبیل جاری ہے





