SHAWORDS
Shakir Naiti

Shakir Naiti

Shakir Naiti

Shakir Naiti

poet
2Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ai husn-e-azal teri kyaa shaan niraali hai

اے حسن ازل تیری کیا شان نرالی ہے دیکھا تو جلالی ہے سمجھا تو جلالی ہے ہے ظرف یہ جو عالی منصب بھی وہ عالی ہے بھر دے گا مرا ساقی پیمانہ جو خالی ہے دنیائے محبت میں کیا کوئی دعا لی ہے تم نے کسی عاشق کی حسرت بھی نکالی ہے رہتا ہے یہ جس دھن میں دنیا سے نرالی ہے دیوانہ محبت کا اک مرد خیالی ہے صورت سی بدل دی ہے کچھ نقش محبت نے تصویر تری ہم نے اب دل میں جما لی ہے ہوں ضبط محبت کا خوگر تو مگر اکثر مچلی ہے طبیعت تو مشکل سے سنبھالی ہے رسم و رہ ہستی کا پابند نہیں عاشق کہتے ہیں جنوں جس کو آزاد خیالی ہے تہذیب سے فارغ ہے اب مرد خراباتی تعمیر کرے گا پھر بنیاد تو ڈالی ہے اک وحشت ہستی ہے دھندا مجھے دنیا کا کچھ دھول اڑانی ہے کچھ دھول اڑا لی ہے پائی ہے نظر ہم نے ساقی کی عنایت کی عقبیٰ بھی بنا لیں گے دنیا تو بنا لی ہے ہے گرد تماشا سا اک غول بیاباں کا صحرا میں بھی ہم نے تو بستی سی بسا لی ہے انداز بیاں تو نے سیکھا یہ نیا شاکرؔ اب طرز نگارش میں آزاد خیالی ہے

غزل · Ghazal

phir kaun hai jahaan mein but bevafaa ke baad

پھر کون ہے جہاں میں بت بے وفا کے بعد میرے لئے تو ایک وہی ہے خدا کے بعد ہے جرم عاشقی تو خطا کر خطا کے بعد آتا ہے اس میں لطف خطا ہر سزا کے بعد سمجھا کئے وہ اہل غرض کا معاملہ مٹنا پڑا مجھے بھی خود اپنی وفا کے بعد آنکھیں اٹھی ہوئی ہیں اگر ہاتھ گر پڑے یعنی کہ انتظار اثر ہے دعا کے بعد آتا ہے تجھ کو اور تلون مزاج کیا شوخی کے بعد شرم تو کیا ہے حیا کے بعد اب میں ہوں اور کشاکش امید و بیم ہے وہ مسکرا رہے ہیں مری التجا کے بعد اب تو دوام حال کی ہے آرزو مجھے مطلوب اور کچھ نہیں ان کی رضا کے بعد ڈر ہے کہ یہ نیا کوئی طرز ستم نہ ہو کیوں مائل کرم ہیں وہ جور و جفا کے بعد سنبھلے کوئی تو ٹھوکریں کھانا برا نہیں ہو تو تلاش حق ہوس ماسوا کے بعد کیوں آستان دوست ملی پھر کوئی جبیں میری جبین دیر و حرم آشنا کے بعد شاکرؔ جب اس نے سن کے کہا جی بجا درست ہم سر جھکا کے رہ گئے عرض وفا کے بعد

Similar Poets