Shakir Shaikh
kahaani dil ki sabhi se chhupaani paDti hai
کہانی دل کی سبھی سے چھپانی پڑتی ہے بھلا کے غم ہنسی لب پر سجانی پڑتی ہے نظر ملاتے ہی فوراً جھکانی پڑتی ہے پھٹے لباس میں غربت چھپانی پڑتی ہے ادھورے خواب جو تیرے ہیں پورے ہوں گے پر ہر ایک خواب کی قیمت چکانی پڑتی ہے سنا ہے میں نے ہمیشہ یہی بزرگوں سے برا ہو وقت تو محنت بڑھانی پڑتی ہے کسی کو ملتی نہیں ہے کبھی وراثت میں خود اپنے دم پہ یہ عزت کمانی پڑتی ہے کہا تھا ماں نے مری مجھ سے یہ کبھی شاکرؔ غریب ہونے کی قیمت چکانی پڑتی ہے