SHAWORDS
Shamim Danish

Shamim Danish

Shamim Danish

Shamim Danish

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

حرف حرف چمکا کر لفظ لفظ مہکا کر جب کسی سے بولا کر مسکرا کے بولا کر لے کے حسن کی دولت رات کو نہ نکلا کر دل جلوں کی بستی ہے کچھ تو خوف رکھا کر شیخ ہو برہمن ہو سنت ہو قلندر ہو سب خدا کے بندے ہیں سب کا مان رکھا کر لفظ لفظ سے کیسے روشنی نکلتی ہے شاعروں میں بیٹھا کر یہ کمال دیکھا کر میں نے کچھ فقیروں کی جوتیاں اٹھائی ہیں اے امیر شہر اب تو میرے ہاتھ چوم آ کر روز تو نہیں آتے چاہتوں کے یہ موسم جب کوئی گھٹا برسے تھوڑا بھیگ جایا کر سادگی ضروری ہے تھوڑی سی محبت میں تھوڑا احتیاطاً بھی چھپ چھپا کے دیکھا کر

harf-harf chamkaa kar lafz-lafz mahkaa kar

غزل · Ghazal

لکھ کے تحریر محبت کی مٹائی اس نے ہائے کس دل سے چھری دل پہ چلائی اس نے خوبصورت مری آنکھوں کا یہ دھوکا ہی سہی میری تصویر تو سینے سے لگائی اس نے وہ جو اب طاق پہ خاموش دیا رکھا ہے رات بھر کی ہے اندھیروں سے لڑائی اس نے چند لمحے ہی سہی چشم عنایت سے مگر دونوں عالم کی مجھے سیر کرائی اس نے کر کے بے لوث محبت سے کنارہ میری کیا عزیزو مرے پائی ہے خدائی اس نے عمر بھر کی میں سزا کاٹنے والا تھا مگر جانے کیا سوچ کے دے دی ہے رہائی اس نے جس کو دیکھو وہی دیوانہ بنا پھرتا ہے ایسی تصویر ہے ڈیپی میں لگائی اس نے ہار تو میری اسی وقت ہوئی اے دانشؔ کر لیا اپنی طرف جب مرا بھائی اس نے

likh ke tahrir mohabbat ki miTaai us ne

غزل · Ghazal

تیرے بدن کے لمس کا منظر بکھر گیا ٹوٹی جو نیند خواب کا پیکر بکھر گیا تیرے بغیر لا نہ سکا دھڑکنوں کی تاب وہ دل جو ٹوٹ کر مرے اندر بکھر گیا اس پیکر جمال نے ڈالے تھے صرف پاؤں دریا میں روشنی کا سمندر بکھر گیا آندھی ترا غرور تو قائم رہا مگر چڑیوں کا اک جہان زمیں پر بکھر گیا یوں منتشر ہوا ہے مری زندگی کا خواب جیسے مرے وجود کا محور بکھر گیا ایسا لگا کہ سارا جہاں جیت لے گا وہ آئی جو دھوپ موم کا لشکر بکھر گیا

tere badan ke lams kaa manzar bikhar gayaa

غزل · Ghazal

دل کی دیوار پہ محراب بنا کر رکھتا تجھ کو آنکھوں کے لیے خواب بنا کر رکھتا رہ گئے تم تو کسی کے لیے جگنو بن کر مجھ کو ملتے تو میں مہتاب بنا کر رکھتا مجھ سے لڑنا ہی اگر تھا تو قبیلے میں پھر کئی رستم کئی سہراب بنا کر رکھتا آگ پانی میں لگانی ہی نہیں جب تم کو خود کو کب تک کوئی تالاب بنا کر رکھتا برف جمتی ہی نہیں جسم کی دیواروں پر تو اگر خون کو تیزاب بنا کر رکھتا ختم ہو جاتا مزہ پھر تو اسے پڑھنے کا تو عبارت میں جو اعراب بنا کر رکھتا ختم کر دیتا وجود اپنا محبت کے لیے خود کو قطرہ تجھے سیلاب بنا کر رکھتا سب ہیں تلوار یہ لکڑی کی مگر اے دانشؔ پھر بھی کچھ دوست کچھ احباب بنا کر رکھتا

dil ki divaar pe mehraab banaa kar rakhtaa

غزل · Ghazal

سب فیصلے خلاف ہمارے گئے تو کیا ہم بے گناہ جان سے مارے گئے تو کیا یہ کم نہیں کہ یاد ہی رکھا گیا ہمیں محفل میں سب کے بعد پکارے گئے تو کیا پانی تمام صحن کا جب پی گئی زمین کاغذ کے اب سفینے اتارے گئے تو کیا تم بے وفا ہو کون یہاں جانتا نہیں تم بے وفا نہ کہہ کے پکارے گئے تو کیا رونق نہ کم ہوئی کبھی اس بزم ناز کی کچھ کہکشاں سے ٹوٹ کے تارے گئے تو کیا خطرے میں آج بھی ہے یقیں کا مرے وجود کچھ سانپ آستین کے مارے گئے تو کیا جنت نہیں ملی ہے یہی جانتے ہیں ہم جنت کے سامنے سے گزارے گئے تو کیا میں بھی شکار عشق ہی کے سانحے میں ہوں اس حادثے میں آپ بھی مارے گئے تو کیا

sab faisle khilaaf hamaare gae to kyaa

غزل · Ghazal

میری انکھوں کا سکوں دل کے اجالے میرے بس گئے جانے کہاں چاہنے والے میرے کوئی اس دشت میں قالین بچھانے سے رہا لیے پھرتے ہیں کہاں پاؤں کے چھالے میرے تیری صحبت میں خوشی کا تو ٹھکانہ ہی نہ تھا اب سنبھلتے ہی نہیں اشک سنبھالے میرے مجھ کو آواز لگاتا ہے جنوں منزل کا کوئی اب پاؤں میں زنجیر نہ ڈالے میرے اپ آئے ہی نہیں قصر انا سے باہر اور گلیوں میں بھٹکتے رہے نالے میرے میری انکھوں میں رہیں گے تو بکھر جائیں گے اپنی پلکوں پہ کوئی خواب سجا لے میرے زر لٹانے میں تمہیں درد بھی ہو کیوں بیٹے تم نے دیکھے ہی کہاں ہاتھ کے چھالے میرے آج پھرتے ہیں جو ڈسنے کے لیے اے دانشؔ کیا بتاؤں کہ یہ سب سانپ ہیں پالے میرے

meri ankhon kaa sukun dil ke ujaale mere

Similar Poets