
Shankar Lal Shankar
Shankar Lal Shankar
Shankar Lal Shankar
Ghazalغزل
aao to bahal jaae meraa dil-e-divaana
آؤ تو بہل جائے میرا دل دیوانہ گلشن ہے بہاراں ہے لبریز ہے پیمانہ جب غور سے سنتے ہیں وہ عشق کا افسانہ کس طرح مچلتا ہے میرا دل دیوانہ آنکھ اٹھنے لگی تیری اور شرم ذرا کم ہو شیشے میں دکھا دوں گا پھر تجھ کو پری خانہ اس شوخ نگاہی کی تعریف نہیں ممکن لڑتی ہے نظر جس سے بن جاتی ہے بیگانہ یہ ابر شفق آگوں یہ سرد ہوا ساقی اک اور صراحی لا اک اور دے پیمانہ عاشق کا ابھی رتبہ سمجھا ہی نہیں تو نے دیکھنے میں ہے دیوانہ مطلب کا ہے فرزانہ وہ بزم میں آ بیٹھے اب شمع بجھا دیجے مرنے کو وہ آتا ہے پروانے پہ پروانہ شنکرؔ کی غزل سن کر تعریف کرو دل سے سب سانچے میں ڈھلتے ہیں یہ قول حکیمانہ
har nazar aashnaa nahin hoti
ہر نظر آشنا نہیں ہوتی لطف میں کیا جفا نہیں ہوتی وصل کی بھی دعا نہیں ہوتی ہم سے اب التجا نہیں ہوتی ساری دنیا کے کام آتے ہیں ایک تم سے وفا نہیں ہوتی دل میں اک آرزو ہے برسوں سے لفظ بن کر ادا نہیں ہوتی عشق تو ایک ہی سے ہوتا ہے ساری دنیا خدا نہیں ہوتی ٹھوکروں میں تری قیامت تھی اب کبھی رونما نہیں ہوتی یہ صفت ہے جناب شنکرؔ میں ہر نظر پارسا نہیں ہوتی
muqaddar apnaa bargashta mukhaalif aasmaan apnaa
مقدر اپنا برگشتہ مخالف آسماں اپنا وہ کیا روٹھا کہ دشمن ہو گیا سارا جہاں اپنا الٰہی ہو گیا بے وجہ دشمن باغباں اپنا کہاں لے جائیں گلشن سے اٹھا کر آشیاں اپنا بگڑ جائے نہ گلچیں ہے زمانے کی ہوا بگڑی بنایا تو ہے بلبل شاخ گل پر آشیاں اپنا فسانہ بن کے اپنا عشق دنیا کی زباں پر ہے دیا تھا ہم نے دل تم کو سمجھ کر رازداں اپنا وفا کی قدر کیا ہوتی ستم کے ہو گئے خوگر بنایا ان کو دشمن ہم نے دے کر امتحاں اپنا خدا کی ذات پر ہم کو تو اے شنکرؔ بھروسا ہے بلا سے دشمن جاں ہو جو ہے سارا جہاں اپنا





