
Sharjeel Ansari
Sharjeel Ansari
Sharjeel Ansari
Ghazalغزل
اتنی آسانی سے مجھ کو نہیں پانے والے کھو بھی سکتے ہیں مری کھوج لگانے والے ہم جو آئے تو کھلی پھولوں کی دوکان یہاں پہلے یہ لوگ تھے بس کھانے کمانے والے میری دنیا میں اگر رنگ نہیں بھر سکتا مت بنا پھر مری تصویر بنانے والے میں کہ صحرائے جنوں ہوں مری وسعت سمجھو ہو گئے خاک مری خاک اڑانے والے ان دنوں ہم بھی ہیں ناراض زمانے سے بہت اور ہم سے بھی ہیں ناراض زمانے والے
itni aasaani se mujh ko nahin paane vaale
جو لوگ آدھے ادھورے اداس رہتے ہیں انہیں سکھاؤں گا کیسے اداس رہتے ہیں اداس تم ہو وہاں پر اداس ہم ہیں یہاں کبھی ملو تو اکٹھے اداس رہتے ہیں بنائے رکھتے ہیں ہر حال میں توازن ہم کہ خوش بھی اتنے تھے جتنے اداس رہتے ہیں اداسی تیرے ملازم نئے ہیں ہم لیکن پرانے والوں سے اچھے اداس رہتے ہیں شریک ہوتے ہیں کم محفل اداسی میں زیادہ تر تو اکیلے اداس رہتے ہیں تمہارے سامنے جلتا نہیں ہے ان کا چراغ کہ چاند ہو تو ستارے اداس رہتے ہیں کسے دکھاؤ گے اپنی اداسیاں شرجیلؔ یہاں تو تم سے بھی اچھے اداس رہتے ہیں
jo log aadhe-adhure udaas rahte hain





