SHAWORDS
Shivraj Bahar

Shivraj Bahar

Shivraj Bahar

Shivraj Bahar

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

اب تو اکثر یہ سوچتا ہوں میں با وفا ہوں کہ بے وفا ہوں میں چھا گیا کون میری ہستی پر سارے عالم پہ چھا گیا ہوں میں کیوں کوئی ناخدا تلاش کروں خود ہی کشتی کا ناخدا ہوں میں اب مجھے ڈھونڈھنا نہیں آسان تیری یادوں میں کھو چکا ہوں میں زندگی کی میں بھیک کیوں مانگوں زندگی سے تو ماورا ہوں میں عالم ہوش نے قدم چومے بے خودی میں جدھر گیا ہوں میں حادثوں نے مجھے تراشا ہے ورنہ پتھر سے کھردرا ہوں میں کیا غرض ہے مجھے فرشتوں سے کوئی انسان ڈھونڈھتا ہوں میں اس طرح دیکھتے ہیں لوگ مجھے جیسے تیری کوئی ادا ہوں میں آپ زحمت نہ کیجئے اے خضر اپنی منزل سے آشنا ہوں میں کوئی کہہ دے یہ بجلیوں سے بہارؔ پھر نشیمن بنا رہا ہوں میں

ab to aksar ye sochtaa huun main

3 views

غزل · Ghazal

جب کلی کوئی مسکراتی ہے جانے کیوں تیری یاد آتی ہے سر پٹکتی ہیں موجیں ساحل پر جب مری ناؤ ڈگمگاتی ہے تو ہے یا تیری یاد ہے اے دوست کوئی شے دل کو گدگداتی ہے ان سے کیا کہئے مدعا دل کا بات کہنے سے بات جاتی ہے میرے ساز حیات پر ہر دم موت میٹھے سروں میں گاتی ہے جب سے بخشا ہے تم نے غم مجھ کو وسعت قلب بڑھتی جاتی ہے عزم محکم بھی ہو اگر ہم راہ خیر مقدم کو منزل آتی ہے جو خودی کو بلند رکھتے ہیں سر پہ دنیا انہیں بٹھاتی ہے اس توقع پہ جی رہا ہوں بہارؔ جیسے اب آرزو بر آتی ہے

jab kali koi muskuraati hai

2 views

غزل · Ghazal

دل کو غم حبیب سے بہلا رہا ہوں میں ہر غم سے بے نیاز ہوا جا رہا ہوں میں معصومیت تو دیکھیے آغاز شوق کی ان کی نوازشوں سے بھی گھبرا رہا ہوں میں ہر غنچہ دل گرفتہ ہے ہر گل ہے سینہ چاک شاید بھری بہار کو یاد آ رہا ہوں میں سرگرمیٔ تلاش حقیقت نہ پوچھئے منزل سے بے نیاز چلا جا رہا ہوں میں رنگینیٔ بہار نظر میں سمائے کیا اس انجمن سے اٹھ کے چلا آ رہا ہوں میں دنیا مرے خلوص کا دے گی جواب کیا دشمن کے درد پر بھی تڑپتا رہا ہوں میں ساقی ترے کرم کی ضرورت نہیں مجھے دل میں سرور تشنہ لبی پا رہا ہوں میں وہ دل جو میرے حال پہ رویا ہے بارہا اس دل سے انتقام لیے جا رہا ہوں میں کاٹے ہیں دن قفس میں اسیری کے یوں بہارؔ یاد چمن میں زمزمہ آرا رہا ہوں میں

dil ko gham-e-habib se bahlaa rahaa huun main

2 views

غزل · Ghazal

پہنچا دیا ہے جوش طلب نے کہاں مجھے لگتا ہے ہر مقام ترا آستاں مجھے آلام روزگار میں بھی دل کشی رہے مل جائے آپ سا جو کوئی مہرباں مجھے میں بے نیاز رہبر و رہزن ہوں اے ندیم کیوں دیکھتا ہے غور سے ہر کارواں مجھے تخلیق کائنات کا باعث تمہیں تو ہو تم مل گئے تو مل گئے دونوں جہاں مجھے قائم خودی کے ساتھ ہے رنگ تعینات پھر میں کہاں اگر ہوا عرفان جاں مجھے آلام رہ گزار محبت نہ پوچھئے ہر گام پر ملے ہیں لہو کے نشاں مجھے کچھ اور اے تجلیٔ جاناں مجھے نواز ہمت ابھی نظر نہیں آتی جواں مجھے اے چارہ گر علاج کی زحمت نہ کیجئے راس آ گئی امانت درد نہاں مجھے یہ کون سا مقام محبت ہے اے بہارؔ ہونے لگا ہے خود پہ بھی ان کا گماں مجھے

pahunchaa diyaa hai josh-e-talab ne kahaan mujhe

2 views

غزل · Ghazal

کانٹوں سے کیوں اتنی نفرت کانٹے بھی ہیں باغ کی زینت ان کا غم اور ان کی محبت یہ بھی نعمت وہ بھی نعمت چاند بھی ہے تارے بھی لیکن شام فرقت شام فرقت آنکھیں ہیں تو پڑھتے چلئے ہر ذرہ ہے ایک حکایت کانٹوں کا منہ چوم رہا ہوں دیکھ کے فصل گل کی حالت میں اور میری تشنہ کامی ساقی اور دعوائے سخاوت بے جا ہے قسمت کا شکوہ ہمت سے بنتی ہے قسمت دیر و حرم کے جھگڑے چھوڑو حسن عمل ہے اصل عبادت رحمت نے دامن پھیلایا دیکھ کے میرے اشک ندامت کیوں نہ ترا غم دل میں چھپا لوں تیرا غم ہے میری دولت موت کی خواہش کرنے والو بھول گئے کیا زیست کی عظمت میں بھی چپ ہوں وہ بھی چپ ہیں یہ بھی ہے انداز محبت کیسے بہارؔ ان کو میں بھلا دوں ان کا غم ہے میری قسمت

kaanTon se kyon itni nafrat

2 views

Similar Poets