SHAWORDS
S

Shola Kararvi

Shola Kararvi

Shola Kararvi

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

yaad teri falak-e-pir liye baiThe hain

یاد تیری فلک پیر لئے بیٹھے ہیں شکوۂ گردش تقدیر لئے بیٹھے ہیں بے اثر نالۂ شب گیر لئے بیٹھے ہیں ایک ٹوٹی ہوئی زنجیر لئے بیٹھے ہیں مصحف حسن کی تفسیر لئے بیٹھے ہیں دل میں ہم آپ کی تصویر لئے بیٹھے ہیں جانے کب منہدم ارکان عناصر ہو جائیں ریت پر جسم کی تعمیر لئے بیٹھے ہیں اس نے دزدیدہ نگاہوں سے کبھی دیکھا تھا دل میں اب تک خلش تیر لئے بیٹھے ہیں نقش بر آب ہے دراصل حباب ہستی کب یہ ممکن ہے جو تعمیر لئے بیٹھے ہیں ایک ہی آہ میں برہم ہے نظام عالم اپنے نالوں میں وہ تاثیر لئے بیٹھے ہیں زندگی موت ہے اور موت حیات جاوید خواب ہستی کی یہ تعبیر لئے بیٹھے ہیں دور حاضر میں غنیمت ہے بہت اے شعلہؔ آپ جو عزت و توقیر لئے بیٹھے ہیں

غزل · Ghazal

rabaab-e-husn hai yaa koi saaz-e-ulfat hai

رباب حسن ہے یا کوئی ساز الفت ہے سمجھ میں آ نہ سکی دل کی جو حقیقت ہے کدورتوں سے یہ اہل جہاں کی حالت ہے نہ اب دلوں میں صفائی نہ رسم الفت ہے مریض ہجر کی اب کچھ عجیب حالت ہے نہ ہوش ہی میں ہے اپنے نہ خواب غفلت ہے بنے جو اور بگڑ جائے ہے مری تقدیر بگڑ بگڑ کے بنے جو عدو کی قسمت ہے قدم قدم پہ ہیں صحرا کے خار دامن گیر وفا کی راہ میں ہر گام پر مصیبت ہے زباں کھلے گی نہ محشر میں سامنے ان کے کرے جو حشر میں فریاد کس کی جرأت ہے گلوں کا کھل کے بکھرنا ہے آئنہ غم کا چمن کا یوں تو ہر اک پتہ نقش عبرت ہے بکھر رہا ہے کتاب جہاں کا شیرازہ قیامت آنے سے پہلے یہ کیا قیامت ہے سمٹ کے آ گئی پہلو میں کائنات جہاں سمجھ میں آ نہیں سکتی جو دل کی وسعت ہے یہ ذوق‌‌ شعر و سخن فطرتاً ہے اے شعلہؔ نمود و نام کی خواہش نہ فکر شہرت ہے

غزل · Ghazal

ranj-e-duniyaa fikr-e-uqbaa jaane kyaa kyaa dil mein hai

رنج دنیا فکر عقبیٰ جانے کیا کیا دل میں ہے زندگی دو دن کی اپنی سیکڑوں مشکل میں ہے راہ الفت میں بہت کچھ خاک بھی چھانی مگر میری جانب سے غبار اب تک کسی کے دل میں ہے وہ جفا پیشہ جفا جو ہے جفا اس کی سرشت جس کو کہتے ہیں وفا وہ میرے آب و گل میں ہے تہہ نشیں ہو کر ملی موج حوادث سے نجات کشتئ عمر رواں اب دامن ساحل میں ہے سخت جانی سے مری پالا اگر پڑتا اسے دیکھتا پھر زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے اپنی اپنی گا رہے ہیں دونوں شیخ و برہمن دیر و کعبہ میں کہاں ہے جو حریم دل میں ہے مرحلے ہر روز انساں کو نئے آتے ہیں پیش آج اس منزل میں ہے کل دوسری منزل میں ہے کچھ تو پاس حسن کچھ ان کی نظر کا سامنا وہ زباں پر لا نہیں سکتا جو میرے دل میں ہے جانتا ہوں گو مآل حضرت آدم مگر کوئے جاناں کی تمنا پھر بھی میرے دل میں ہے دیکھیے آئینۂ پیری میں پھر بچپن کا حال عہد ماضی کی جھلک کچھ عہد مستقبل میں ہے سوچ کر فریاد کا انجام میں خاموش ہوں ورنہ اب بھی قوت فریاد میرے دل میں ہے ہے شکست بے ستوں معیار استعداد عشق کوہ کن کا نام فرد جوہر قابل میں ہے عشق مجنوں نے کچھ اونچا کر دیا معیار حسن ورنہ لیلیٰ کی حقیقت پردۂ محمل میں ہے کوئی ہے ساغر بکف کوئی صراحی در بغل تشنہ کام اب تک مگر شعلہؔ تری محفل میں ہے

غزل · Ghazal

dard-e-gham-e-firaaq se aankhein hain ashk-baar kyaa

درد غم فراق سے آنکھیں ہیں اشک بار کیا رونے سے ہوگی مختصر زحمت انتظار کیا زخموں سے چور جو نہ ہو سینۂ داغدار کیا جس میں نہ ہو ہجوم گل کہئے اسے بہار کیا جس نے جلا کے دل مرا ہجر کی شب مٹا دیا شمعیں جلانے آیا ہے اب وہ سر مزار کیا اٹھ گئی جس طرف نظر حشر سا اک بپا ہوا ان کی نگاہ ناز ہے فتنۂ روزگار کیا مٹ کے بھی اس کی جستجو ہے جو جہاں میں چار سو لے گا کسی جگہ قرار اڑتا ہوا غبار کیا ہو چکی ختم شام غم آنکھوں میں آ چکا ہے دم اب بھی مریض ہجر کو ان کا ہے انتظار کیا جرم وفا سے عندلیب گل کی نظر میں تھی ذلیل کانٹوں کے بھی نگاہ میں ہونا پڑے گا خوار کیا کوشش ضبط لاکھ کی پھر بھی نہ اشک تھم سکے جبر نہ دل پہ ہو سکا ایسا بھی اختیار کیا ان کی نظر کے ساتھ ہی سارا زمانہ پھر گیا گردش چشم ناز ہے گردش روزگار کیا باد خزاں کی موج تھی غنچۂ دل کے حق میں سم موسم گل کی بھی ہوا ہوگی نہ سازگار کیا شعلہؔ تفتہ دل مجھے آتش عشق سے ہے کام میری نظر میں طور کی برق شرارہ بار کیا

Similar Poets