
Shumama Ufuq
Shumama Ufuq
Shumama Ufuq
Ghazalغزل
main rang birangi morni mire pankh bahut mumtaaz
میں رنگ برنگی مورنی مرے پنکھ بہت ممتاز مرا رقص انوکھا رقص ہے مجھے اپنے آپ پہ ناز میں سبز رتوں کی راز داں میں پت جھڑ کی ہمدرد میں اپنی آپ مثال ہوں میرا ایک جدا انداز میں دھانی شام کا روپ بھی میں صبح کی کومل دھوپ مجھے دیکھ کے کوئل گائے تو ہر پات بجائے ساز میں مست الست فقیرنی ناچوں گی ترے دوار مری چھتری بن جا سائیاں مجھے اپنا عشق نواز میں وارث شاہ کی ہیر ہوں مرے روپ ہیں ایک ہزار مرا نام شمامہؔ افق ہے مہکاروں کی آواز
itnaa mat royaa kar laDki
اتنا مت رویا کر لڑکی بیٹھ گئیں بنیادیں گھر کی دیکھ مصور گہرا پانی اور تصویر بنا اندر کی عمر پہ طاری ہو جاتی ہے نبض کبھی اک لمحے بھر کی تاریکی ہی تاریکی ہے بوجھے کون پہیلی ڈر کی سارے آنسو پی جاتی ہے ماں سے نسبت ہے چادر کی رستے میں دل ہار آئے ہیں خاک کہیں روداد سفر کی یار شمامہؔ دیکھ سنبھل کر کانچ ہے تو دنیا پتھر کی
mukhtalif ek hi sipaah kaa dukh
مختلف ایک ہی سپاہ کا دکھ اک پیادے کا ایک شاہ کا دکھ منزلوں تک ہمارے ساتھ گیا مختصر ایک شاہراہ کا دکھ دکھ ہمیں اک ادھورے رشتے کا اسی رشتے سے پھر نباہ کا دکھ یعنی یک طرفہ تھا ہمارا عشق ہم نے پالا تھا خواہ مخواہ کا دکھ آپ شہزادی لینے آئے ہیں کیسے سمجھیں گے بادشاہ کا دکھ
khubiyon khaamiyon achchhi buri aadaat samet
خوبیوں خامیوں اچھی بری عادات سمیت بول منظور ہوں میں سارے تضادات سمیت جھانک سکتے ہو اگر نیند کی وادی سے پرے دیکھ سکتے ہو مجھے خواب و خیالات سمیت بوڑھے برگد کے جھکے شانے بتاتے ہیں مجھے اس نے ڈھویا ہے کہانی کو روایات سمیت پیڑ کا سایہ نہیں پھل بھی ضرورت ہے مری دل بھی درکار ہے تیرا مجھے دن رات سمیت جتنی دنیاؤں کو تم ڈھونڈ رہے ہو باہر میرے کمرے میں ہیں بند ارض و سماوات سمیت شہر والوں کو پرکھنا کوئی مشکل تو نہیں باتوں باتوں ہی میں کھل جاتے ہیں اوقات سمیت اس کے چھوتے ہی بدن ایسے چمک اٹھتا ہے جیسے جل اٹھے کوئی شہر مضافات سمیت
jo ho sake to mayassar hamein tamaam raho
جو ہو سکے تو میسر ہمیں تمام رہو قیام دل میں کرو اور یہیں مدام رہو یہ کوئی بات کہ اس کے ہوئے کبھی اس کے ہمارے ہو تو سراسر ہمارے نام رہو کبھی تو آؤ ہماری رسائی کی حد میں کبھی کبھی تو ہمارے لیے بھی عام رہو بعید کچھ بھی نہیں ہے ہماری بات سنو طناب خیمۂ امکاں ذرا سا تھام رہو نہیں ہے چاہ ہمیں منزلوں کی کوئی افقؔ سفر میں ساتھ ہمارے ہر ایک گام رہو





