SHAWORDS
Siddique Afghani

Siddique Afghani

Siddique Afghani

Siddique Afghani

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

havaa-e-ishq mein shaamil havas ki lu hi rahi

ہوائے عشق میں شامل ہوس کی لو ہی رہی بڑھا بھی ربط تو بے ربط گفتگو ہی رہی نہ آئی ہاتھ میں تتلی گداز خوشبو کی گل بدن کی مہک میرے چار سو ہی رہی وہ دشت دشت سی آنکھیں چمن چمن چہرہ سراب خوف کی اک لہر روبرو ہی رہی طلوع افق پہ ہے اب تک وہی ستارۂ باد میں بھول جاؤں اسے دل میں آرزو ہی رہی ہزار بار لٹا حسن برگ و بار مگر رگ‌ شجر میں رواں موج رنگ و بو ہی رہی ہری رتوں کی ہوئی آسمان سے بارش مگر زمین تمنا لہو ہی رہی سفر کی دھوپ نے تن من جلا دیا میرا مدار دشت میں سائے کی جستجو ہی رہی ہوا نہ دور مرے دل سے زنگ محرومی تمام رات رواں چشم آب جو ہی رہی ابد ابد سے مری خود سے جنگ جاری ہے یہ خیر و شر کی بلا مجھ سے دو بدو ہی رہی ابلتا رہتا ہے سینے میں کرب کا لاوا لباس خاک کو بھی حاجت رفو ہی رہی طواف شہر نگاراں مرا ہی جرم نہیں زن ہوا بھی تو آوارہ کو بہ کو ہی رہی

غزل · Ghazal

jhonkaa nafas kaa mauja-e-sarsar lagaa mujhe

جھونکا نفس کا موجۂ صرصر لگا مجھے رات آ گئی تو خود سے بڑا ڈر لگا مجھے اتنا گداز ہے مرا دل فرط درد سے پھینکا کسی نے پھول تو پتھر لگا مجھے خود ہی ابھر کے ڈوب گیا اپنی ذات میں سورج اک اضطراب کا پیکر لگا مجھے یہ شام وعدہ ہے کہ پڑاؤ ہے وقت کا اک لمحہ اک صدی کے برابر لگا مجھے جیسے میں تیری ذات کا عکس جمیل ہوں یوں بھی ترے فراق میں اکثر لگا مجھے اس شور میں محال تھا تیرا خیال بھی صحرا بھی تیرے شہر سے بہتر لگا مجھے دامن سے دھو رہا تھا میں دھبے گناہ کے قطرہ بھی آنسوؤں کا سمندر لگا مجھے تازہ ہوا میں سکھ کا کوئی سانس لے سکوں اے رب کائنات ذرا پر لگا مجھے

غزل · Ghazal

shahr-e-ehsaas mein zakhmon ke kharidaar bahut

شہر احساس میں زخموں کے خریدار بہت ہاتھ میں سنگ اٹھا شیشوں کے بازار بہت کوئی کھڑکی ہے سلامت نہ کوئی دروازہ میرے گھر کے سبھی کمرے ہیں ہوا دار بہت ہاتھ تھکتے نہیں رنگوں کے ہیولے بن کر اہل فن کو سر کاغذ خط پر کار بہت دشت میں بھی وہی آثار ہیں آبادی کے پھیلتا جاتا ہے اب سایۂ دیوار بہت دھوپ کا پھول گرا شاخ شفق سے جس دم دن کا چہرہ نظر آتا تھا شکن‌ دار بہت نقش ہے ذہن پہ یوں تیرا طلسمی پیکر میں ہوں خود اپنی نگاہوں میں پر اسرار بہت لفظ کرنوں کی طرح دل میں اتر جاتے ہیں دل نشیں ہے ترا پیرایۂ اظہار بہت خوف دشمن کی طرح میرے تعاقب میں بھی تھا خنجر وہم کے میں نے بھی سہے وار بہت تن گئے اتنے مرے گرد ہواؤں کے پہاڑ سانس لینا بھی ہے میرے لیے دشوار بہت اب بھی لمحوں سے سلاسل کی کھنک آتی ہے اب بھی ہیں وقت کے زنداں میں گرفتار بہت زخم کے چاند نہ راتوں کو مرے دل میں اتار میرے سینے پہ نہ رکھ سنگ گراں بار بہت تیرگی آئے نہ صدیقؔ ضیا کے نزدیک کاٹ رکھتی ہے یہ ٹوٹی ہوئی تلوار بہت

غزل · Ghazal

har chand ki pyaaraa thaa main suraj ki nazar kaa

ہر چند کہ پیارا تھا میں سورج کی نظر کا پھر بھی مجھے کھٹکا ہی رہا شب کے سفر کا الجھی ہے بہت جسم سے دریا کی روانی اس چوبی محل کا کوئی تختہ بھی نہ سر کا ڈوبا ہوا ایوان شفق بھی ہے دھوئیں میں بے رنگ سا ہر نقش ہے دیوار سحر کا رستے ہوئے ناسور پہ چلتے رہے نشتر تازہ ہی رہا پھول سدا زخم ہنر کا میں ہوں کہ کڑی دھوپ کے صحرا میں گھرا ہوں سایہ کہیں ملتا ہی نہیں شاخ شجر کا مظلوم تھا میں کل بھی تو محروم ہوں اب بھی عنوان بدلتا ہی نہیں میری خبر کا بجلی تو سنا ہے کہیں جنگل میں گری تھی اترا ہوا چہرہ ہے چمن میں گل تر کا تب برف کے مہتاب سے پھوٹیں گی شعاعیں بجھ جائے گا جب شعلہ مرے داغ جگر کا آئینہ شکستہ ہوا چبھنے لگیں پلکیں نظارہ بھی دیکھا نہ گیا روپ نگر کا آسیب ہو صرصر ہو بلا ہو کہ قضا ہو سب کے لیے دروازہ کھلا ہے مرے گھر کا اڑتی ہی رہی خاک بدن تیز ہوا میں احسان یہ کچھ کم تو نہیں برق و شرر کا مٹ جائیں گی پیشانیٔ مرمر سے لکیریں اب رنگ اتر جائے گا طاؤس کے پر کا خوشیوں کا چمک دار ہرن ہاتھ نہ آیا پیچھا کیا آہوں نے بہت جذب و اثر کا کس طرح میسر ہو مجھے عرصۂ راحت ہر لحظہ نئی چوٹ نیا غم نیا چرکا صدیقؔ جنہیں راہ وفا میں نے سجھائی پتھر وہی کہتے ہیں مجھے راہ گزر کا

غزل · Ghazal

jab dhyaan mein vo chaand saa paikar utar gayaa

جب دھیان میں وہ چاند سا پیکر اتر گیا تاریک شب کے سینے میں خنجر اتر گیا جب سب پہ بند تھے مری آنکھوں کے راستے پھر کیسے کوئی جسم کے اندر اتر گیا ساحل پہ ڈر گیا تھا میں لہروں کو دیکھ کر جب غوطہ زن ہوا تو سمندر اتر گیا اک بھی لکیر ہاتھ پہ باقی نہیں رہی دست طلب سے نقش مقدر اتر گیا وہ آئنہ کے سامنے کیا رونما ہوئے سادہ ورق کے رنگ کا منظر اتر گیا چہرے کی تیز دھار بھی بے کار ہو گئی جب چشم‌ آب دار سے جوہر اتر گیا کس درجہ دل فریب تھی دانے کی شکل بھی پنچھی ہرے شجر سے زمیں پر اتر گیا

Similar Poets