
Surkhab Bashar
Surkhab Bashar
Surkhab Bashar
Ghazalغزل
ایسا ہے میرے دل سے ترا غم نکالنا جیسے گلے کو گھوٹنا اور دم نکالنا مجھ کو خطاب بعد میں دینا شہید کا پہلے مری کہانی سے ماتم نکالنا ممکن ہے اس کے نیچے کوئی راز دفن ہو اچھا نہیں ہے زخم سے مرہم نکالنا بچپن کی یاد اور بھی تازہ کریں گے ہم یاروں کوئی پرانا سا البم نکالنا
aisaa hai mere dil se tiraa gham nikaalnaa
جب سے تو میرے ساتھ مسلسل سفر میں ہے لگتا ہے جیسے خوشبوئے صندل سفر میں ہیں کھلنے دے اور پھول ملاقات کے ابھی پھر اس کے بعد ہجر کا جنگل سفر میں ہے ٹپکے ہوئے لہو سے پتا چل رہا ہے یہ یارو ہمارے ساتھ ہی مقتل سفر میں ہے تم جس کے منتظر ہو لب بام شام سے وہ چاند میرے ساتھ مسلسل سفر میں ہے رکھنا تو اس کو کانچ کے محلوں سے دور دور سرخابؔ تیرے ساتھ جو پاگل سفر میں ہے
jab se tu mere saath musalsal safar mein hai
عذاب تنگ دستی میں پڑا ہے دوانہ پھر بھی مستی میں پڑا ہے محبت کے نشے میں چور ہو کے ابھی تک چاند بستی میں پڑا ہے ہمارے گھر کا سورج بچپنے سے مسلسل گھر گرہستی میں پڑا ہے زمین و آسماں کا ذرہ ذرہ ہماری سر پرستی میں پڑا ہے بلندی پر سبھی سرخابؔ ہیں تو فقط کیوں تو ہی پستی میں پڑا ہے
'azaab-e-tang-dasti mein paDaa hai
وہ اگر ہے بے وفا تو چھوڑ اس کے حال پر زخم اگ آئیں گے ورنہ آنسوؤں سے گال پر عشق کے دریا میں پگلے اور بھی ہیں مچھلیاں پھینکتا ہے جال اپنا کیوں ہمارے جال پر جو محبت میں دیا تھا آپ نے پہلے پہل آج بھی خوشبو لگاتا ہوں اسی رومال پر آسماں جیسی سجاوٹ تو نہیں کر پاؤں گا میں ستارے ٹانکتا رہتا ہوں پھر بھی شال پر کارخانہ بند ہو جائے گا اپنے جسم کا بیٹھ جائیں گی اگر یہ دھڑکنیں ہڑتال پر
vo agar hai bevafaa to chhoD us ke haal par





