
Sushrut Pant Zarraa
Sushrut Pant Zarraa
Sushrut Pant Zarraa
Ghazalغزل
ghazab kaa shahr hai sab ko udaas rakhtaa hai
غضب کا شہر ہے سب کو اداس رکھتا ہے پر اس میں ہر کوئی بسنے کی آس رکھتا ہے جہاں کے طور طریقے سمجھ بھی سکتا ہوں ترا خیال مجھے ناشناس رکھتا ہے رکھا ہے دور بہت درد کو دواؤں سے چراغ کون ہواؤں کے پاس رکھتا ہے یہ جسم و جان تو دنیا کے کام آئے ہیں اب آسماں مری سانسوں کی آس رکھتا ہے ریا تو جس کو سمجھتا ہے وہ حیا ہے یہاں کہ سچ بھی جھوٹ کا خود پر لباس رکھتا ہے وہ خود کو رند بھی کہتا ہے اور زاہد بھی وہ اپنے ہاتھ میں خالی گلاس رکھتا ہے لحاظ اپنی ہی غیرت کا ہے کسے ذرہؔ اور ایک تو ہے جو غیروں کا پاس رکھتا ہے
dar pe dastak si hui ghar se nikalne ke liye
در پہ دستک سی ہوئی گھر سے نکلنے کے لئے وقت ہے آن پڑا وقت بدلنے کے لئے ایک وہ سانس جو فریاد میں گھٹ کر ٹوٹی ایک پیغام تھا طوفان کو چلنے کے لئے ایک آواز سے کچھ اور اٹھیں آوازیں کتنا کچھ اور ہے دنیا میں بدلنے کے لئے زخم بھرنے کے لئے زخم بھی کھانے ہوں گے خار پر چلنا پڑے خار کچلنے کے لئے خود سحر اپنی کرو نوچ کے سورج اپنا منتظر کیوں ہو بھلا رات کے ڈھلنے کے لئے کون کب آگ پرائی میں جلا ہے ذرہؔ آگ سینہ کی ہی درکار ہے جلنے کے لئے
raaste hamvaar karte hi gae
راستے ہموار کرتے ہی گئے منزلیں مسمار کرتے ہی گئے گھر کو ویرانہ بنا ڈالا مگر دشت کو گلزار کرتے ہی گئے صحن دل کھولا رفیقوں کے لیے وہ اسے بازار کرتے ہی گئے نور کے آگے کیا آنکھوں کو بند اور پھر دیدار کرتے ہی گئے سب سے پوشیدہ رکھا اپنا ہنر بس اسے تیار کرتے ہی گئے داد دینے پر وہ آمادہ تھے اور ذرہؔ ہم انکار کرتے ہی گئے
ab na vo lazzat-e-udaasi hai
اب نہ وہ لذت اداسی ہے اب ہمارا فراق باسی ہے تیرے بارے میں پوچھتا ہوں جسے ہچکچاہٹ اسے ذرا سی ہے وہ ہے حاصل مرے گناہوں کا اس کی لعنت کسی دعا سی ہے آپ کا ہے یہ امتحان حیا بس ہماری تو بے لباسی ہے توڑنے کو کہا ہے عہد وفا بے وفائی میں بھی وفا سی ہے میں نہ جانوں مری زباں ہے کیا اس میں خوشبو تو ریختہ سی ہے یوں ہی ذرہؔ نہ خود کو کہتا ہوں مجھ میں اتنی تو خود شناسی ہے





