Syed Ali Nazar
Syed Ali Nazar
Syed Ali Nazar
Ghazalغزل
یاد اس کی مجھے دلاتے ہو آگ باروت میں لگاتے ہو دل جدائی کی آگ نے پھونکا اشک پس تم بجھانے جاتے ہو میرا بے یار جیونا معلوم اے دم اب کیوں تم آتے جاتے ہو ہاتھ کو گو چھٹا چلے کیا غم دل سے جاؤ تو جانوں جاتے ہو کر علیؔ پر نظر ترحم کی اس پہ کیا خلق کو ہنساتے ہو
yaad us ki mujhe dilaate ho
پانی کی طرح یار کو ہر رنگ میں دیکھا مانند شرر سینۂ ہر سنگ میں دیکھا زلفیں ترے چہرے پہ عجب ڈھب سے کھلی ہیں لپٹا ہوا سنبل گل اورنگ میں دیکھا اس برقعہ کے اٹھنے پہ میں خورشید کو واروں کیا چاند سا منہ کاکل شب رنگ میں دیکھا دے جام چھلکتا ہوا اے پیر خرابات دارو کا نشہ ہم نے تری بنگ میں دیکھا نت جنگ میں ہے صلح تو نت صلح میں ہے جنگ صلح کا مزہ ہم نے تری جنگ میں دیکھا
paani ki tarah yaar ko har rang mein dekhaa
آتش عشق نے ایسا ہی جلایا مجھ کو کہ جہنم نے بھی منہ دیکھ چھپایا مجھ کو بے خبر کر دیا کونین سے یارو پل میں گردش چشم سے جب جام پلایا مجھ کو میں کہا دل سے کہ کیا تجھ کو ہوا وہ بولا ایک بازی میں ان آنکھوں نے ہرایا مجھ کو چشم اس شوخ کی شوخی کا بیاں شوخی ہے طرفۃ العین میں دل لے کے کھجایا مجھ کو دل میں تھا شوق کا اظہار و بیاں سب کیجے لیکن اس چشم لجیلی نے لجایا مجھ کو ابر باراں کا بہت شور و شغب دیکھا تھا ایں پہ اس اشک کے طوفاں نے بہایا مجھ کو لخت دل بولا علیؔ چشم کی تقصیر روا دار مژگاں پہ عبث تو نے چڑھایا مجھ کو
aatish-e-ishq ne aisaa hi jalaayaa mujh ko
جس وقت اس کی چشم سے ہم چار ہو چلے گویا کہ دو جہاں سے خبردار ہو چلے آرام و صبر و تاب و تواں ہوش کیا قرار ایتی متاع دے کے تجھے خوار ہو چلے کچھ قدر جان و دل کو اگر ہو تو لے ولے کہنے کو ہم بھی اس کے خریدار ہو چلے گو جل کے خاک ہو گئے یا خوش رہے تو کیا آئے تھے اس جہان میں بے یار ہو چلے معلوم یہ ہوا کہ غرض دل سے تھی جو اب لے دل کو ووہیں یار سے اغیار ہو چلے آمد میں جو مزہ ہے سو آورد میں نہیں کہنے کو ہم بھی صاحب اشعار ہو چلے آنجھو نہیں مژہ پہ علیؔ یہ بقول طرز تھے دل کے آبلے سو نمودار ہو چلے
jis vaqt us ki chashm se ham chaar ho chale





