Syed Tahir
main puure qad se khaDaa huun ab is yaqin ke saath
میں پورے قد سے کھڑا ہوں اب اس یقین کے ساتھ نہیں ہے عارضی رشتہ مرا زمین کے ساتھ ہماری ذات کی تکمیل ہونے والی ہے ذرا سا قاف لگانا ہے عین شین کے ساتھ یہاں پہ سانپ ہیں بت ہیں چھری ہے یار بھی ہیں عجیب میلہ لگا ہے اک آستین کے ساتھ تم اپنی آنکھوں سے دل سے تو پوچھ لو پہلے کہ مشورہ تو ضروری ہے ماہرین کے ساتھ نظر کو دے کے فریب ایک پردہ اٹھنے کا عجب مذاق ازل سے ہے ناظرین کے ساتھ اگر تو پھول سے خوشبو تلک سفر کر لے سمجھنا عشق مکمل ہے تیرے دین کے ساتھ میں بے سبب کبھی رویا تو یہ کھلا مجھ پر مکاں بھی روتے ہیں طاہرؔ کبھی مکین کے ساتھ