SHAWORDS
Tamanna Jafri

Tamanna Jafri

Tamanna Jafri

Tamanna Jafri

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

اپنے کاندھوں پہ اٹھائے ہوئے تدبیر کا بوجھ پھرتے رہتے ہیں لئے کاتب تقدیر کا بوجھ بیٹھا جاتا ہے بدن کے کسی کونے میں دل اب نہ سہہ پائے گا یہ نفرتی تقریر کا بوجھ اب تو دیوار نے بھی ساتھ ہے چھوڑا میرا اس سے اٹھتا نہیں ہے اب مری تصویر کا بوجھ ڈوبتا جاتا ہے پانی میں عریضہ میرا کچھ ہے الفاظ کا اور کچھ مری تحریر کا بوجھ گھر کا سب بوجھ اٹھا رکھا ہے اس نے خود پر اور دھرتی پہ ہے اس آہنی شہتیر کا بوجھ ڈھال جو میری انا کی تھی ہوئی دو ٹکڑے تھا بہت آپ کے الفاظ کی شمشیر کا بوجھ راس آئے کہاں مانگے کے اجالے اس کو چاند پر بھاری ہے سورج تری تنویر کا بوجھ تیری دستار سلامت ہے تو سر ہیں لاکھوں کیوں تمناؔ ہی پہ ہے بس تری توقیر کا بوجھ

apne kaandhon pe uThaae hue tadbir kaa bojh

غزل · Ghazal

یہ دل اگر تری یادوں سے اجتناب کرے تو پھر نصیب مرا خانماں خراب کرے ہے انتظار کی مدت تمام ہونے کو اسے کہو کہ وہ جو کچھ کرے شتاب کرے ہے اس کی مرضی جسے چاہے سونپ دے خود کو جسے وہ چاہے اسے آپ دستیاب کرے ہے اس کے گرد حسینوں کا ایک جم غفیر نہ جانے اس کی نظر کس کا انتخاب کرے تمہاری دید کی حسرت کبھی نہ پوری ہو مزا تو جب ہے کہ وہ تجھ سے بھی حجاب کرے اسے تو صرف خوشامد ہی راس آتی ہے کوئی حضور کہے کوئی جی جناب کرے دبا کے بیٹھے ہو جب بیوہ و یتیم کا حق خدا تمہاری دعا کیسے مستجاب کرے وہ چاہے چرخ کو اک دن ملا دے مٹی میں اگر وہ چاہے تو ذرے کو آفتاب کرے وہ جس کو چاہے حبیب خدا کا پائے لقب جسے وہ چاہے اسے صاحب کتاب کرے اگر وہ چاہے تو گلشن کی ہر روش مہکے وہ جس کو چاہے بہاروں سے فیضیاب کرے ذرا تمناؔ ڈرو روز حشر سے جس دن خدا تمہارے گناہوں کا احتساب کرے

ye dil agar tiri yaadon se ijtinaab kare

غزل · Ghazal

فطرت ایسی ہی کچھ انسان میں رکھ دی گئی ہے ایک الجھن سی ہر اک آن میں رکھ دی گئی ہے وہ فرشتہ ہی ہے جو ہاں کے سوا کچھ نہ کہے جرأت انکار کی شیطان میں رکھ دی گئی ہے جھوٹ پیراہن صد رنگ بدل سکتا ہے حق بیانی مگر امکان میں رکھ دی گئی ہے میری ہمت ہے کہ میں نظریں اٹھاؤں اوپر خود مری آنکھ گریبان میں رکھ دی گئی ہے پھول کاغذ کے سجائے تھے سلیقہ سے جہاں میری خوشبو اسی گلدان میں رکھ دی گئی ہے پھر کوئی پیار ہے دولت کے ترازو میں تلا دل کی اک ٹوکری میزان میں رکھ دی گئی ہے مہر کی کرنوں سے روشن تو ہیں پلکیں لیکن تیرگی دیدۂ حیران میں رکھ دی گئی ہے زندگی خرچ کیا میں نے تجھے جی بھر کے جو بچی تھی کہیں دیوان میں رکھ دی گئی ہے ہیں کلا کار کے ہاتھوں میں فقط کچھ سکے اور ستائش کہیں سامان میں رکھ دی گئی ہے جس میں کاٹی تھیں کبھی سرد اکیلی راتیں میری میت اسی دالان میں رکھ دی گئی ہے بندے کی رب سے ملاقات کا ہی نام ہے عشق سب کہانی اسی عنوان میں رکھ دی گئی ہے اے شہنشاہ تمناؔ تو تجھے مل نہ سکی اس کی مورت ترے ایوان میں رکھ دی گئی ہے

fitrat aisi hi kuchh insaan mein rakh di gai hai

Similar Poets