Tanmay Mishra
وہ بھی رہے غرور میں ہم بھی تھے آن میں ٹوٹی طناب عشق اسی کھینچ تان میں لب پر رہی ہے اس سے بچھڑ کر بھی اک ہنسی کچھ پھول کاغذی بھی رہے پھول دان میں بڑھنے لگا ہے رات کی تنہائیوں کا شور چبھنے لگی سکوت کی آواز کان میں تو بھی وہی ہے میں بھی وہی ہوں وہی ہیں سب کچھ بھی نیا نہیں ہے مری داستان میں بھرنے لگا ہے عارضی دنیا سے میرا دل میں اوبنے لگا ہوں اب اس مرتبان میں کیسے ہوں اک نیام میں تلوار دو سو ہم اپنا وجود بھول گئے اس کے دھیان میں
vo bhi rahe ghurur mein ham bhi the aan mein