Tariq Rampuri
یہ دکھاوے کی محبت نہیں ہونے والی ہم سے جذبوں کی تجارت نہیں ہونے والی کچھ بھی انجام ہو منت نہیں ہونے والی دوستو ہم سے یہ زحمت نہیں ہونے والی مجھ کو گمنامی میں مرنا ہے گوارہ لیکن چاپلوسی مری عادت نہیں ہونے والی تو نے سائل کو جو لوٹایا ہے بھوکا پیاسا ایسے اعمال سے برکت نہیں ہونے والی عشق کی آگ میں چپ چاپ جلا ہوں برسوں اب دوبارہ یہ حماقت نہیں ہونے والی اپنے کاسے کو اٹھا کر بڑھو آگے طارقؔ ان کی جانب سے عنایت نہیں ہونے والی
ye dikhaave ki mohabbat nahin hone vaali