
Yawar Warsi
Yawar Warsi
Yawar Warsi
Ghazalغزل
shaam Dhalti malgaji parchhaaiyaan
شام ڈھلتی ملگجی پرچھائیاں میں ہوں اور ہیں سر پھری پرچھائیاں ہونٹ سیتی دشت کی نظارگی بات کرتی بولتی پرچھائیاں مارتا موجیں سمندر کا جلال کچھ ابھرتی ڈوبتی پرچھائیاں سنسناتے تیر سی پیلی ہوا چہرہ چہرہ خوف کی پرچھائیاں کس لیے کھائے فریبوں پر فریب ساتھ دیتی ہیں کہیں پرچھائیاں اک شگفتہ پھول کا تنہا سفر تاک میں بیٹھی ہوئی پرچھائیاں جب پرانی سے ملے مجھ کو نجات گھیر لیتی ہیں نئی پرچھائیاں منہ چھپائے ایک شرمندہ کرن کر رہی ہیں دل لگی پرچھائیاں مجھ کو شعلوں کے حوالے کر گئیں اس کے رخ پر کھیلتی پرچھائیاں شام ہوتے ہی کہاں گم ہو گئیں کیا ہوئیں یاورؔ مری پرچھائیاں
apne haathon mein uThaae hue sar aa gae hain
اپنے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے سر آ گئے ہیں اے مرے تیغ بکف تشنہ جگر آ گئے ہیں فصل جاں کاٹنے والوں کو خبر کر دینا پھر بہار آ گئی پھر شانوں پہ سر آ گئے ہیں تیشہ انداز رہے روشنیوں کے لشکر خود بہ خود کب مری دیوار میں در آ گئے ہیں پارۂ ابر بھی کیا دست ہنر رکھتا تھا پیڑ سرسبز ہوئے برگ و ثمر آ گئے ہیں خاک رہ اس کی اٹھائی ہے تو کیا دیکھتا ہوں میری مٹھی میں کئی شمس و قمر آ گئے ہیں آسماں اتنی رعونت نہیں اچھی ہوتی کیا خبر تجھ کو نہیں ہے مرے پر آ گئے ہیں سر پھری دھوپ سے میں نے جو نمٹنا چاہا آفتابوں کی حمایت میں شجر آ گئے ہیں چاہئے جن کے لیے آنکھ کے اندر اک آنکھ ہم کو اکثر وہ مناظر بھی نظر آ گئے ہیں رنگ بے کیف جو ہیں کوئے توجہ کے تو کیا تیرے دیوانے ترے زیر اثر آ گئے ہیں اس کی آواز پہ لبیک کی آواز عبث درمیاں عہد گذشتہ کے کھنڈر آ گئے ہیں آج دریا نے دکھائی ہے بڑی فیاضی میرے ہاتھوں میں بھی دو چار گہر آ گئے ہیں مل گئے حرف و نوا اس کے تبسم سے مجھے شاخ اظہار پہ بھی برگ و ثمر آ گئے ہیں اس کے بچ بچ کے گزرنے سے ہوا ہے ظاہر میری آنکھوں میں اسے خواب نظر آ گئے ہیں اب وہ جذبات میں گرمی نہ تمنا نہ امنگ راستہ بھول کے ہم لوگ کدھر آ گئے ہیں اے چراغو سنو اب دست دعا کر لو بلند جن کی جانب تھا اشارہ وہ کھنڈر آ گئے ہیں ہجرتیں اوڑھ کے نکلے تھے پرندے یاورؔ شام آئی ہے تو پھر لوٹ کے گھر آ گئے ہیں
dasht-e-hu se to kabhi baagh-e-navaa se guzraa
دشت ہو سے تو کبھی باغ نوا سے گزرا روز میں ایک نئی آب و ہوا سے گزرا تھرتھراتی تھی زمیں کانپ رہے تھے افلاک سانحہ ہو کے مرے دست دعا سے گزرا باغ میں باد صبا آگ لگاتی گزری شعلۂ ہجر دل باد صبا سے گزرا انگلیوں میں تری آباد ہے اک شہر ہنر یہ گماں بھی ترے نقش کف پا سے گزرا کس لیے چاند ستاروں نے کیا میرا طواف کون یہ آج مرے غار حرا سے گزرا میری آنکھوں میں شراروں نے کیا آ کے ہجوم جب مرا شوق زیاں کالی گھٹا سے گزرا وہ گلی تھی تری ہاں تیری گلی تھی شاید ایسا محسوس ہوا کوئے شفا سے گزرا وقت نے کاٹ دئے تھے پر پرواز مرے دست و پا مارتا سفاک خلا سے گزرا اس زمیں پر نہ کوئی در ہے نہ دروازہ مگر جو بھی گزرا ہے یہاں سے لیے کاسے گزرا میں ہی میں خود کو نظر آیا وہاں پر یاورؔ جب تجسس مرا کہسار ندا سے گزرا
kal raaste mein ek ajab vaaqia huaa
کل راستے میں ایک عجب واقعہ ہوا وہ پہلی بار گزرا مجھے دیکھتا ہوا اے خامۂ نوا ہے اگر واقعی ہنر دیوار جاں پہ نقش بنا بولتا ہوا گم ہو گئیں کہاں وہ پری چہرہ تتلیاں کرتا ہے انتظار دریچہ کھلا ہوا خوشیاں اداس ہو گئیں چہرے اتر گئے سب کچھ تھا ٹھیک ٹھاک یہ لمحوں میں کیا ہوا کیوں آسماں نے کھینچ لی تلوار دفعتاً کیا کہہ رہا تھا دست دعا کانپتا ہوا چہرے کی ہر خراش نے کی مجھ سے گفتگو جب ایک آئنے سے مرا سامنا ہوا یاورؔ ابھی سمیٹ لو کشکول چشم میں باقی نہ پھر بچے گا گلوں پر لکھا ہوا
shoalagi ho dekhnaa yaa ho sharaara dekhnaa
شعلگی ہو دیکھنا یا ہو شرارہ دیکھنا دشمنی اپنوں سے ہو تو کیا خسارہ دیکھنا ہوش باقی ہیں ابھی کچھ جاں بدن میں ہے ابھی اے نگاہ سحر زا مجھ کو دوبارہ دیکھنا میرے بچپن لوٹ آ تو ایک لمحے کے لیے چاہتی ہے زندگی تجھ کو دوبارہ دیکھنا جب قدم رکھ ہی دئے ہیں رہ گزار شوق میں آتے جاتے موسموں کا کیا اشارہ دیکھنا سرنگوں طوفاں کو کرنے کا نشہ کچھ اور ہے چاہتا ہے کون دریا کا کنارا دیکھنا کون سی ساعت ہے بہتر کون سا پل ٹھیک ہے اس سے ملنا ہے ذرا تم استخارہ دیکھنا دل کو بھاتا ہے بہت بارش کے تھم جانے کے بعد دھوپ کھلنا بادلوں کو پارہ پارہ دیکھنا میں تو جب بھی دیکھتا ہوں اس کا چہرہ ہی لگے صبح کی دہلیز پر روشن ستارہ دیکھنا اتنی آساں بھی نہیں یاورؔ ہماری شاعری گر سمجھنا ہو ہمیں تو استعارہ دیکھنا
kahaan talaash karun ab ufuq kahaani kaa
کہاں تلاش کروں اب افق کہانی کا مزاج کون سمجھتا ہے بہتے پانی کا غروب ہوتے ہی سورج ابھرنے لگتا ہے مرے وجود میں صحرا ضرر فشانی کا وہ پیڑ جس میں فقط بے لباس شاخیں تھیں اسی سے کام لیا میں نے سائبانی کا کروں کہاں سے شروع اور کہاں پہ ختم کروں سرا ہی ملتا نہیں وقت کی کہانی کا مجھے گنائے گئے وصف میرے دشمن کے عطا کیا گیا منصب قصیدہ خوانی کا بہار سرخ قبا ہے چمن شرار بہ دوش ہمارے شہر میں موسم ہے گل فشانی کا قسم تھی ابر کو بھی مہرباں نہ ہونے کی مجھے بھی کرنا تھا اظہار سخت جانی کا قدم بڑھانا مرا وادیٔ تحیر میں طلسم ٹوٹنا صحرائے بیکرانی کا یہ کھڑکیاں یہ دریچے نہیں ہیں آنکھیں ہیں مکان میں بھی ہے احساس بے مکانی کا وہ گل مزاج جو مصروف گفتگو ہو کبھی خیال آتا ہے دریاؤں کی روانی کا وہ ترجمے کے لیے اس کے خال و خد نہ پڑھے جسے ہنر نہیں آتا ہے ترجمانی کا چلن سے ہو گیا باہر تو اور کیا کرتا لباس اتار دیا میں نے بے زبانی کا اتر کے حرف کے باطن میں دیکھنا یاورؔ جو رقص دیکھنا ہو شعلۂ معانی کا





