Zakiya Shaikh Meena
وہی انداز پرانے نہیں جدت کوئی نیا لہجہ نہیں اب زیر سماعت کوئی لے نئی اور نیا آہنگ اٹھا نغمہ طراز جاگ اٹھے خفتہ لہو میں نئی حدت کوئی جھوٹ پر لاکھ ملمع ہو صداقت ملفوف کھل ہی جاتی ہے نہیں چھپتی حقیقت کوئی کس لئے خار ہے کھوئی ہوئی غیرت کو جگا گڑگڑانے سے نہیں ملتی ہے عزت کوئی لاکھ کر وعدہ خلافی و تغافل اے دوست دل سے کم ہونی نہیں تیری محبت کوئی مجھ کو بخشا ہے مرے رب نے یہ اعجاز سخن میں نے باطل کی نہیں کرنی حمایت کوئی رستگاری ہے کسے رنج و الم سے میناؔ عرصۂ جہد ہے یارو نہیں جنت کوئی
vahi andaaz puraane nahin jiddat koi