
Zameer Kazmi
Zameer Kazmi
Zameer Kazmi
Ghazalغزل
na aansuon mein kabhi thaa na dil ki aah mein hai
نہ آنسوؤں میں کبھی تھا نہ دل کی آہ میں ہے تماش بین ہمیشہ سے رقص گاہ میں ہے بنام عشق مری زندگی ترے قرباں مگر نصیب مرا بے طلب نباہ میں ہے میں جانتا ہوں کہ ہے کس کی آنکھ کا آنسو وہ ایک لعل جو اب تک مری کلاہ میں ہے دلوں کے رشتے ہیں سب الوداعی منزل میں کہ ناگزیر اذیت ہر ایک چاہ میں ہے نماز عید کئی سال سے نہ پڑھ پایا بہ نام موت کوئی خوف عید گاہ میں ہے یہ میری فکر نئے دور کی امانت ہے کہ آنے والی صدی بھی مری نگاہ میں ہے یہ اتفاق بھی اک انحراف ہے گویا مرا ضمیرؔ ابھی تک مری پناہ میں ہے
yuun na jaao ki bahut raat abhi baaqi hai
یوں نہ جاؤ کہ بہت رات ابھی باقی ہے میرے حصے کی ملاقات ابھی باقی ہے رات مہکے گی تو خواہش بھی بہک جائے گی جو نہ ہو پائی ہے وہ بات ابھی باقی ہے خیر سے مل گئیں راتیں وہ مرادوں والی آپ کے حسن کی خیرات ابھی باقی ہے چاندنی رات کا ہر قرض اتارا ہم نے پیاسے ارمانوں کی بارات ابھی باقی ہے اس کے ہونٹوں کے گلاب آج بھی تازہ ہیں ضمیرؔ اک مہکتی ہوئی سوغات ابھی باقی ہے
majnun bhi khairiyat se hai lailaa maze mein hai
مجنوں بھی خیریت سے ہے لیلیٰ مزے میں ہے اک تم مرے نہ ہو سکے دنیا مزے میں ہے تتلی اداس ہو کے چھپی دیکھتی رہی پھولوں سے کھیلتا ہوا بھنورا مزے میں ہے دنیا کے سارے رنگ وہی ہیں تمہارے بعد مجھ کو اکیلا کرکے زمانہ مزے میں ہے موسم تمہارے حسن کے مستی شباب کی رہتے ہو جس میں تم وہ علاقہ مزے میں ہے اے خوش نصیب چاند کی متوالی چاندنی اس سے یہ کہنا درد کا مارا مزے میں ہے بے راہبر ہے اب بھی مرا قافلہ ضمیرؔ لیکن وہ خوش ہے اس کا قبیلہ مزے میں ہے





