
Zeba Janpuri
Zeba Janpuri
Zeba Janpuri
Ghazalغزل
ایک رخ سو نقاب ہے دنیا اور پھر بے حجاب ہے دنیا خوب صورت ہنوز بے خوشبو کاغذوں کی گلاب ہے دنیا کوئی تعبیر کیا کرے اس کی ایک گونگے کا خواب ہے دنیا لفظ و معنی کی تازگی مت پوچھ گو پرانی کتاب ہے دنیا ہم بھی ایسے کہاں کے اچھے ہیں کیا ہوا گر خراب ہے دنیا سربسر عیش بھی اذیت بھی خلد دوزخ مآب ہے دنیا آؤ زیباؔ یہ تجزیہ تو کریں ہم ہیں خود یا خراب ہے دنیا
ek rukh sau naqaab hai duniyaa
1 views
میکدے سے نہ حرم سے نہ صنم خانے سے آبرو ہے ترے غم کی مرے کاشانے سے زندگی ہوتی جو گتھی تو سلجھ بھی جاتی یہ تو کچھ اور الجھ جاتی ہے سلجھانے سے موت کس کار نمایاں پہ ہے اتنی نازاں شخصیت مرتی نہیں شخص کے مر جانے سے عقل والے بڑے محدود نظر ہوتے ہیں مسئلہ دل کا ہے پوچھو کسی دیوانے سے راز تعمیر کا تخریب میں پوشیدہ ہے شہر لیتے ہیں جنم گاؤں اجڑ جانے سے روز افتادہ ہے کیا جوش نمو کے آگے مسکراتی ہے سحر شب کے سیہ خانے سے غم سے کچھ اور نکھر جاتا ہے انساں کا شعور جیسے سونا ہو کھرا آگ میں تپ جانے سے
mai-kade se na haram se na sanam-khaane se
1 views





