
Zia Karnatki
Zia Karnatki
Zia Karnatki
Ghazalغزل
gulshan se jab bahaar kaa mausam guzar gayaa
گلشن سے جب بہار کا موسم گزر گیا میں بھی غبار بن کے ہوا میں بکھر گیا دریا کے بیچ سے تو وہ ہنس کر گزر گیا ساحل کے پاس آ کے وہ طوفاں سے ڈر گیا ٹھوکر لگی کچھ ایسی وہ گر کر نہ اٹھ سکا سارا نشہ غرور کا سر سے اتر گیا ان کے بغیر میرے مقدر میں کچھ نہ تھا وہ آ گئے تو میرا مقدر سنور گیا ویسے کسی نے مجھ کو نکھرنے نہیں دیا خود کو تراش کر میں عزیزو نکھر گیا جب تک یہاں رہا وہ کوئی پوچھتا نہ تھا سب پوچھتے ہیں اس کو کہ اب وہ کدھر گیا سچ بولنے ہی والا تھا اک شخص اے ضیاؔ یک لخت اس کی پیٹھ میں خنجر اتر گیا
usuul apnaa agar kuchh badal gayaa hotaa
اصول اپنا اگر کچھ بدل گیا ہوتا خراب وقت ہمارا بھی ٹل گیا ہوتا میں میکدے میں اے ساقی جو کل گیا ہوتا ہر ایک رند یقیناً سنبھل گیا ہوتا ہمارے ساتھ اگر تو کبھی سفر کرتا تو منزلوں سے بھی آگے نکل گیا ہوتا اگر امید کے بادل نہ گھر گئے ہوتے غموں کی دھوپ میں ہر گھر پگھل گیا ہوتا میں ایک پل کے لیے ہی سمیٹ لیتا تمہیں تمہارا پاؤں کبھی جو پھسل گیا ہوتا تمام خواب ادھورے ہی رہ گئے ہوتے تسلیوں سے اگر میں بہل گیا ہوتا چمن کی سیر سے محروم ہم ضیاؔ رہتے ہر ایک پھول پہ دل جو مچل گیا ہوتا
tumhaari yaad se itnaa to faaeda hogaa
تمہاری یاد سے اتنا تو فائدہ ہوگا ہمارا زخم جگر اور بھی ہرا ہوگا ہمارے اور تمہارے ہی درمیاں اک دن کسے خبر تھی کہ صدیوں کا فاصلہ ہوگا اندھیری رات میں گر روشنی نظر آئے یہ جان لو کہ ہمارا ہی دل جلا ہوگا ہر ایک چہرہ ہے فی الحال جانا پہچانا ہر ایک چہرہ مگر کل نیا نیا ہوگا بہت سے خوابوں میں اک یہ بھی خواب ہے اپنا ہمارا جینے کا انداز ہی جدا ہوگا عزیزو آج کی صحبت کو آخری سمجھو تمہارے ساتھ نہ کل بزم میں ضیاؔ ہوگا
qaatil ke saath haath milaanaa 'ajib thaa
قاتل کے ساتھ ہاتھ ملانا عجیب تھا ہم کو تڑپتا چھوڑ کے جانا عجیب تھا مایوس کر دیا تھا ہمیں تو نے زندگی اس وقت تیرا ساتھ نبھانا عجیب تھا خنجر کی نوک موڑ کر اس نے کیا تھا وار دل نے کہا کہ ہائے نشانہ عجیب تھا گانا عجیب تھا نہ وہاں ناچنا عجیب بس ان کو انگلیوں پہ نچانا عجیب تھا محفل میں ان کا آنا عجب تو نہ تھا مگر اٹھ کر یوں درمیان میں جانا عجیب تھا ترک تعلقات کے اسباب تھے مگر آپس کی دشمنی کا بہانا عجیب تھا رہزن کے ساتھ مل کے ضیاؔ کارواں کا یوں الزام راہبر پہ لگانا عجیب تھا
phirtaa huun dar-ba-dar main liye dil dukhaa huaa
پھرتا ہوں دربدر میں لیے دل دکھا ہوا اک اک قدم پہ زخم جگر پھر ہرا ہوا اس دور کا یہ سب سے بڑا المیہ ہوا ہر آدمی ہے شہر میں خود سے ڈرا ہوا ہنس ہنس کے پوچھتا ہے وہ ظالم کھڑا ہوا برپا ہوا فساد تو انجام کیا ہوا حالات ہوں خراب تو پھر کس سے کیا گلہ مشکل میں اپنا سایہ بھی ہم سے جدا ہوا اعلان جنگ کرتے ہو ہر ظلم کے خلاف لوگوں کو ہم سے بارہا یوں بھی گلہ ہوا اس پر کسی بھی بات پہ ہم کب خفا ہوئے چھوٹی سی بات پر جو زمانہ خفا ہوا کرتا ہے احترام وہ ہر شخص کا مگر مرعوب تو کسی سے نہ ہرگز ضیاؔ ہوا





