Zia Khurjavi
کرب ہی کرب ہے تسکین کے امکاں کے قریب پھر تری یاد کا نشتر ہے رگ جاں کے قریب فطرتاً عقل کو یہ بات گوارہ ہی نہیں دست وحشت کی رسائی ہو گریباں کے قریب ان سے کہتا ہوں جو تدبیر رفو کرتے ہیں چاک دل بھی ہے مرے چاک گریباں کے قریب فکر انساں کی رسائی ہے فلک پر لیکن کاش پہنچے یہ علاج غم انساں کے قریب اپنی ہی آگ میں اب تو اسے جلنا ہوگا کوئی پروانہ نہیں شمع فروزاں کے قریب سایہ داری پہ وہ نازاں تھا مگر میرے لیے دھوپ ہے اس شجر زود پشیماں کے قریب عدم آباد کی منزل ہے بہت دور مگر شام ہوتی ہے مسافر کی بیاباں کے قریب وہ تصور کی حدوں سے ہے بہت دور تو پھر دستکیں کون یہ دیتا ہے رگ جاں کے قریب اے ضیاؔ ہم سے ہے تاریخ زمانہ واقف ہم نے ساحل کی بنا ڈالی ہے طوفاں کے قریب
karb hi karb hai taskin ke imkaan ke qarib