
Zoya Rao Wafa
Zoya Rao Wafa
Zoya Rao Wafa
Ghazalغزل
برحق نہیں ہوں پیکر باطل نہیں ہوں میں جو کچھ ہوں نا تمام ہوں کامل نہیں ہوں میں دعوے اگر کروں تو کروں کس زبان سے کیا مقصد حیات سے غافل نہیں ہوں میں جب بھی کتاب اٹھائی لرزنے لگی صدا گویا کہ اس کلام کے قابل نہیں ہوں میں دل کہہ رہا ہے کم جو مری روشنی کرے ایسے کسی ملال کا حامل نہیں ہوں میں اب ایسا اشتعال دے آہ و بکا کروں ہوں مبتلائے زعم کہ جاہل نہیں ہوں میں ہم ایک سے نہیں ہیں محبت کے باب میں مانا کہ بے نیاز ہوں بے دل نہیں ہوں میں ایسی ادا ہے زیب فقط لا شریک کو تیرا کرم ہے عام تو سائل نہیں ہوں میں
bar-haq nahin huun paikar-e-baatil nahin huun main
آئنے اور آبگینے توڑ ڈالو دل نظر کے سب نگینے توڑ ڈالو خوش گمانی اور مروت جو بھی رکھیں دل تو دل ہیں تم وہ سینے توڑ ڈالو سب فریب و جور والے کھیل کھیلو ربط والے سب قرینے توڑ ڈالو تم کو کیا اس پار کس کا ہے ٹھکانہ تم سر ساحل سفینے توڑ ڈالو عصمت و عفت وقار و آبرو پھر چاہے جس کا ہاتھ چھینے توڑ ڈالو
aaine aur aabgine toD Daalo





