
Zubair Ahad
Zubair Ahad
Zubair Ahad
Ghazalغزل
ہجوم غم سے شکایت نہ اب ترے در سے نہیں ہے واسطہ اب کچھ بھی عشق کے زر سے دل اسیر کو میرے بہار گل سے کیا یہ خیمہ گاہ ہے آباد یاد دلبر سے سفر نژاد تھا آزاد خود کو رکھا تبھی وگرنہ کون نکلتا بھرے پرے گھر سے گلہ بھی کرنے کو کوئی نہیں جواز یہاں رہے بھی کیسے کوئی دور اس ستم گر سے ڈرا رہا ہے وہ کار جنوں سے مجھ کو احدؔ نکالتا نہیں پر مجھ کو آتشیں گھر سے
hujum-e-gham se shikaayat na ab tire dar se
اے ہجر ناتمام مسائل سمجھ ذرا اے عشق جاوداں تو وسائل سمجھ ذرا خیرات حسن بانٹ تو جلوہ دکھا مجھے اے مثل گل تو حالت سائل سمجھ ذرا مجھ سے کبھی نہ ہوگی پذیرائی ہجر کی میرے بہت سے اور ہیں مسائل سمجھ ذرا دہلیز حسن پر کھڑا ہوں دل فگار میں کار وفا ہے رستے میں حائل سمجھ ذرا یوں ہم سے ہو نہ پایا یہ عہد وفا وفا گھر میں تھا بس احدؔ ہی تو عائل سمجھ ذرا
ai hijr-e-naa-tamaam masaail samajh zaraa
طرب کی خواہشوں سے بامراد کوئی نہیں غزل تراشتے رہتے ہیں داد کوئی نہیں دل اسیر ٹھکانہ ہے قاف کی پری کا اجڑ کے بھی کہے گا اس کے بعد کوئی نہیں یہ آنکھ کس کی تمنا میں بے نیام ہوئی اے تیغ تیز ہدف تجھ کو یاد کوئی نہیں سکوت دشت ہے آنکھوں میں رنج نادیدہ ہے حرف تشنہ لبی شبد یاد کوئی نہیں ضرر کی جب کوئی ترغیب کارگر نہ ہوئی بڑے رسان سے بولا یاں شاد کوئی نہیں
tarab ki khvaahishon se baa-muraad koi nahin





