SHAWORDS
Zubair Hamza

Zubair Hamza

Zubair Hamza

Zubair Hamza

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

is pari ne tumhein baalon mein sajaayaa phulo

اس پری نے تمہیں بالوں میں سجایا پھولو پھولنے والو روا ہے تمہیں جتنا پھولو دور کیوں جاتے ہو آنکھوں سے حسیں چہرو تم تتلیاں تو ہیں تمہیں دیکھ کے زندہ پھولو خاک غربت پہ تمنائیں نہیں اگ سکتیں دل ہے ویران تو ویران رہے گا پھولو واپس اوقات میں آنا ہو تو دم گھٹنے لگے اک خوشی ملنے کا مطلب تھا کہ اتنا پھولو اب کے سجنے لگیں زلفوں کے بجائے قبریں ایسی رت میں نہ کسی شاخ پہ کھلنا پھولو ہر کوئی دیکھ کے مالی کو دعا دینے لگے اے مرے دوستو ایسا پھلو ایسا پھولو شرم سے سرخ ہوئے جاتے ہو اس کے آگے میں نہ کہتا تھا نزاکت وہ ہے دیکھا پھولو اس ستم گر کے مسلنے سے شناسا نہیں تم مت کسی بھول میں رہنا نہ مہکنا پھولو

غزل · Ghazal

pheinke rang havaa ne phir

پھینکے رنگ ہوا نے پھر پھر اے یار پرانے پھر اب پھر کفر کراؤ گے اے گندم کے دانے پھر غم کے بچے آ گئے تم میرے پھول چرانے پھر اوج پہ ہو پھر رنگ بہار موج میں ہوں دیوانے پھر چاروں ہونٹ ملانے اور دونوں دل گھبرانے پھر اتنے نیک ہیں سارے تو منٹو کے افسانے پھر

غزل · Ghazal

khudaa ki sharm na kuchh ehtiraam masjid kaa

خدا کی شرم نہ کچھ احترام مسجد کا لگا ہوا ہے دکانوں پہ نام مسجد کا بحکم عشق جھکا اس کے سامنے ورنہ وہ دیوی اور میں بیٹا امام مسجد کا یہ خون تھوکتی مخلوق اسی کا کنبہ ہے سمجھ لیا جسے تم نے تمام مسجد کا عجیب قہر ہے منبر پہ طنز کرتے ہیں وہ لوگ منہ بھی ہے جن پر حرام مسجد کا حقیقتاً تو زبیرؔ آگے معبد دل کے جو کوئی سمجھے تو کم ہے مقام مسجد کا

غزل · Ghazal

bahut hai naaz tujhe shahd ke hain nal tire honT

بہت ہے ناز تجھے شہد کے ہیں نل ترے ہونٹ کریں جو کر سکیں سیراب دل کا تھل ترے ہونٹ رواں رواں ہمہ تن گوش ہو کے سنتا ہے سخن سخن تری آنکھیں غزل غزل ترے ہونٹ یہ کائنات کی تلخی کو تھوکنے والے بلا کا صبر کیے جائیں گر ہوں پھل ترے ہونٹ سکوت دہر مری شاہ رگ کتر جاتا اگر نہ ہلتے مری جان بر محل ترے ہونٹ بہار بھر دی ہے تجھ میں زبیرؔ کیا اس نے بہت گلاب گراتے ہیں آج کل ترے ہونٹ

غزل · Ghazal

taakhir thi chaman mein faqat tere pair ki

تاخیر تھی چمن میں فقط تیرے پیر کی خوشبو نے ساعتوں میں زمانوں کی سیر کی بھیجا گیا ہے جلتے ہوئے شہر میں مجھے اور حکم ہے کہ لاؤں خبر کوئی خیر کی قدرت سخن سرائی پہ کیسی کہ ہم نے تو یہ چاہ کر نہ کی کبھی چاہے بغیر کی آنکھوں میں تب سے گڑ گئے بے خوابیوں کے تیر جب سے فصیل ٹوٹ گئی شب بخیر کی کیوں رنگ نیلا پڑ گیا سن کر یہ آپ سے کیوں زہر لگ گئی مجھے تعریف غیر کی اک داستان تلخ بہ پیرایۂ لطیف اے صاحبان شعر غزل ہے زبیرؔ کی

Similar Poets