
Aah Sambhali
Aah Sambhali
Aah Sambhali
Ghazalغزل
sadaa-bahaar jo the dard vo puraane gae
سدا بہار جو تھے درد وہ پرانے گئے ہمارے ساتھ میں موسم بھی سب سہانے گئے تجھے خبر نہیں تعمیر نو کے پاگل پن چھتیں گریں تو پرندوں کے آشیانے گئے جہاں سرابوں کا اک موج موج سورج تھا وہیں بھڑکتی ہوئی پیاس سب بجھانے گئے بکھرنے دو کسی آوارہ یاد کی خوشبو کہ بھول جانے کے بھی اب اسے زمانے گئے اس ایک نقش گریزاں پہ دسترس کیسی ہوا جو روٹھی تو رستوں میں ہم منانے گئے وہ خود بھی ٹوٹ گیا لمس دیدہ ور سے آہؔ مزاج پھول کا پتھر سے آزمانے گئے
khizr jis se bane us aab-e-baqaa se Dariye
خضر جس سے بنے اس آب بقا سے ڈریے لمبی عمروں سے بزرگوں کی دعا سے ڈریے ہم قدم بن گئے اس کے تو ٹھکانہ ہی نہیں آتی جاتی ہوئی بے سمت ہوا سے ڈریے نیت جرم ہی ہے جرم کا آغاز یہاں جو نہ کی ہو اسی ناکردہ خطا سے ڈریے سانحہ رونما ہو جائے گا شق ہونے پر تیشہ کو روکئے پتھر کی انا سے ڈریے پتا پتا یہاں بیٹھا ہے سمیٹے خود کو گنگناتی ہوئی اس باد صبا سے ڈریے اور شے ہیں تو کوئی ڈرنے کی حاجت ہی نہیں آپ بندے ہیں خدا کے تو خدا سے ڈریے رحمتیں زحمتیں بن جاتی ہیں اکثر اے آہؔ ہو نہ یہ سیل بلا کالی گھٹا سے ڈریے
mat fikr-e-mudaavaa kar ai dast-e-masihaai
مت فکر مداوا کر اے دست مسیحائی دریاؤں سے گہری ہے اس زخم کی گہرائی اک منزل ہجرت میں جب یاد تری آئی رنگوں کو چرا لائی خوشبو کو اڑا لائی ہر چہرہ پرایا ہے ہر آنکھ میں نفرت ہے جائے گی کہاں لے کر اے شرم شناسائی یہ کیسا سویرا تھا کس درد کا سورج تھا ہر روشنی ظلمت کی دہلیز پہ لے آئی جب ہجر مقدر ہے ملنے ہی نہیں دے گا سورج کی تو یکتائی میں چاند کی تنہائی اب تم کو بھی ہونا ہے اوجھل مری نظروں سے دیتی ہے صدا مجھ کو وہ منزل رسوائی
mujhe bhi paDh lo ki harf-e-savaab ban jaaun
مجھے بھی پڑھ لو کہ حرف ثواب بن جاؤں ورق ورق ہوں کسی دن کتاب بن جاؤں مرے بغیر بھی کچھ دن گزار لے اے دوست نہ اتنا پی کہ میں تیری شراب بن جاؤں بڑھا نہ فاصلے ہر روز اجنبی کی طرح نہ یوں بلا کہ میں تجھ پر عذاب بن جاؤں کیا تھا تو نے تو روشن چراغ کہہ کے مجھے یہ میرا حوصلہ میں آفتاب بن جاؤں کہاں یہ سوچا تھا گھبرا کے جس سے نکلا ہوں پھر ایک دن اسی جنگل کا خواب بن جاؤں بلا رہی ہیں مجھے دور کی ہوائیں آہؔ یہ لگ رہا ہے کہ خانہ خراب بن جاؤں
vo vaahima hai kahaan ye usuul jaanaa thaa
وہ واہمہ ہے کہاں یہ اصول جانا تھا ملے تھے اس سے تو پھر اس کو بھول جانا تھا گنوا دی عمر کسی ربط رائیگاں کے لئے ہمیں تو ٹوٹتے رشتوں کو بھول جانا تھا نہ کام آئی تب و تاب فکر و فن میری وہ آئنہ ہوں جسے سب نے دھول جانا تھا وہ خوشبوؤں کے مسافر تھے ساتھ چلتے کیا مجھے تو صورت گرد ملول جانا تھا وہ سادہ لوح ہمارے سوا کوئی نہ تھا آہؔ کہ جس نے گل شدہ داغوں کو بھول جانا تھا
jaagnaa saae mein aur dhuup mein sonaa us kaa
جاگنا سائے میں اور دھوپ میں سونا اس کا اس کے احساس سے ثابت تھا نہ ہونا اس کا دل شکستہ ہو وہ کیوں سر پھری باتوں سے مری میں نے بچپن میں بھی توڑا تھا کھلونا اس کا اک ستم پیشہ طبیعت کا پتہ دیتا ہے کاغذی ناؤ کو بارش میں ڈبونا اس کا پھر کوئی یاد چھڑا لیتی ہے انگلی مجھ سے یاد آتا ہے کسی بھیڑ میں کھونا اس کا ایک ہی ٹوٹے ہوئے پل کے تھے راہی دونوں موت سے بڑھ کے تھا وہ دور سے رونا اس کا خود شناسی کا کوئی علم نہ تھا آہؔ اسے لوگ مٹی میں ملاتے رہے سونا اس کا





