SHAWORDS
Aamir Shauqi

Aamir Shauqi

Aamir Shauqi

Aamir Shauqi

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

اے خدا کیسا سماں آیا ہے شہر میں ہر سو دھواں چھایا ہے لٹ گئی خلق خدا کی حسرت عہد نو ایسا زیاں لایا ہے ہجر کے دشت میں یکسر میں نے غم کے دریا کو رواں پایا ہے صرف مجھ کو نہیں دولت کی طلب سب کو درکار یہاں مایا ہے بڑی مشکل سے جہاں کو شوقیؔ میرا انداز بیاں بھایا ہے

ai khudaa kaisaa samaan aayaa hai

41 views

غزل · Ghazal

اے خدا حسرت و جذبات کے مارے ہوئے لوگ اب کہاں جائیں یہ حالات کے مارے ہوئے لوگ تیری دنیا کی کہانی بھی عجب ہے مولا در بدر رہتے ہیں حق بات کے مارے ہوئے لوگ صبح نو کے لئے زنبیل طلب لائے ہیں دشت ویراں میں سیہ رات کے مارے ہوئے لوگ تو بھی آرام ذرا کر لے غبار منزل ابھی سوئے ہیں مسافات کے مارے ہوئے لوگ ہو کے مایوس پری خانے سے لوٹے شوقیؔ جانے کیوں شوخ اشارات کے مارے ہوئے لوگ

ai khudaa hasrat-o-jazbaat ke maare hue log

41 views

غزل · Ghazal

مسئلے اور بھی ہیں عشق کے آزار کے ساتھ صرف اک کرب نہیں عمر کی رفتار کے ساتھ ہائے محرومیٔ قسمت کہ تجھے پا نہ سکے ہم ہر اک سمت گئے حسرت دیدار کے ساتھ کیسے میں آپ کی تعظیم بجا لاؤں گا میری بنتی ہی نہیں حاشیہ بردار کے ساتھ ابھی خوش رنگ ہے تابانی مرے آنگن کی رنجشیں ہونے لگیں کیوں در و دیوار کے ساتھ درس دیتے ہیں بہت لوگ پیمبر والے بیٹھتا کوئی نہیں مفلس و نادار کے ساتھ اس کے حصے کا بھی غم مجھ کو عطا کر دے مگر ان گنت خوشیاں رہیں مولا مرے یار کے ساتھ گفتگو کا بھی سلیقہ نہیں جن کو شوقیؔ آج پھرتے ہیں وہی منصب و دستار کے ساتھ

masale aur bhi hain ishq ke aazaar ke saath

41 views

غزل · Ghazal

کون سکھ چین سے ہے کس کی پذیرائی ہے تیری دنیا میں ہر اک موڑ پہ رسوائی ہے جھیل سی آنکھیں تری اور گلابی ترے ہونٹ میری چاہت کے ہی صدقے میں یہ رعنائی ہے میں جو چپ چاپ سا بیٹھا ہوں تری محفل میں یہ مرا شوق نہیں ضربت تنہائی ہے گھر میں گھٹ گھٹ کے ہی مر جاتے ہیں بیمار غریب اب شفا خانے میں اس اوج پہ مہنگائی ہے میں سمندر تو نہیں ادنیٰ سا شاعر ہوں مگر دریا سے بڑھ کے مرے شعر میں گہرائی ہے جان کر بھی نہیں پہچانتے ہیں شوقیؔ لوگ تیری بستی میں عجب طرز شناسائی ہے

kaun sukh-chain se hai kis ki paziraai hai

41 views

غزل · Ghazal

موسم گل میں بھی گل نذر خزاں ہیں سارے مطمئن کوئی نہیں محو فغاں ہیں سارے ہوشمندی سے قدم آگے بڑھاؤ لوگو اپنی جانب ہی کھنچے تیر و کماں ہیں سارے چہچہانے کی صدا آئی تھی کل تک جن سے جانے کیوں آج وہ خاموش مکاں ہیں سارے صرف دیوار کی اونچائی نظر آتی ہے اے مرے شہر مرے لوگ کہاں ہیں سارے اب خدا خیر کرے قافلہ والوں کی مرے کھوئے کھوئے ہوئے منزل کے نشاں ہیں سارے کتنا دھندلا دیا حالات نے تم کو شوقیؔ جن کو تم ابر سمجھتے ہو دھواں ہیں سارے

mausam-e-gul mein bhi gul nazr-e-khizaan hain saare

41 views

غزل · Ghazal

سرد موسم ہے بہت ہجر کا آزار بھی ہے کیا کہیں تجھ سے یہ دل غم میں گرفتار بھی ہے کیسے کہہ دوں کی ترے بعد مجھے چین پڑا صبح غمگین مری رات دل آزار بھی ہے زندگی کہتی ہے ٹھہرو نہ بڑھو اور بڑھو منزلیں دور ہیں اور راستہ دشوار بھی ہے نئی تعمیر کا سودا ہے سر و دل میں مگر سامنے صحن کی گرتی ہوئی دیوار بھی ہے میرا مداح مرے فن سے نہیں شہر کا شہر خود کی پہچان میں کردار کا کردار بھی ہے ہر کسی سے نہیں ملتا ہوں میں جھک کر شوقیؔ درمیاں اپنے کوئی چیز یہ معیار بھی ہے

sard mausam hai bahut hijr kaa aazaar bhi hai

41 views

Similar Poets