Aasi Ramnagri
Aasi Ramnagri
Aasi Ramnagri
Ghazalغزل
دی گئی ترتیب بزم کن فکاں میرے لئے یہ زمیں میرے لئے ہے آسماں میرے لئے دیدنی ہے خود ہی اپنے دل کے زخموں کی بہار ہیچ ہے رنگینئ ہر گلستاں میرے لئے ذوق سجدہ چاہیے کیسا حرم کیسی کنشت آستان دوست ہے ہر آستاں میرے لئے جادۂ مہر و وفا میں مر کے زندہ ہو گیا موت ہے میری حیات جاوداں میرے لئے عزم کامل کو مرے ہر گام پر منزل ملی بن گئیں دشواریاں آسانیاں میرے لئے ہو مبارک حضرت زاہد کو فردوس جناں ہے دیار دوست خلد جاوداں میرے لئے ہم نواؤں کو مبارک حلقۂ زلف بتاں مضطرب زنداں میں ہوں گی بیڑیاں میرے لئے
di gai tartib-e-bazm-e-kun-fakaan mere liye
41 views
ہیں اہل چمن حیراں یہ کیسی بہار آئی ہیں پھول کھلے لیکن ہے رنگ نہ رعنائی ان کے رخ رنگیں سے اس ساعد سیمیں سے پھولوں نے پھبن پائی سورج نے ضیا پائی سب میکدے ویراں ہیں سنسان گلستاں ہیں کہنے کو گھٹا چھائی کہنے کو بہار آئی مدہوشی و مستی کا انداز نرالا ہے مے رندوں نے پی کم ہی پیمانوں سے چھلکائی تنہائی میں رہ کر بھی تنہا نہیں ہوتے ہم تنہائی میں یادوں کی جب چلتی ہے پروائی اس دور میں جینا بھی کچھ کم نہیں مرنے سے ناکردہ گناہوں کی جیسے ہو سزا پائی ہنستے ہوئے مرنے کو تیار جو رہتے ہیں ایسے ہی جیالوں نے جینے کی ادا پائی اس دور کے انساں کا انداز نرالا ہے اپنے کو عدو سمجھیں غیروں سے شناسائی
hain ahl-e-chaman hairaan ye kaisi bahaar aai
41 views
عجیب شہر کا نقشا دکھائی دیتا ہے جدھر بھی دیکھو اندھیرا دکھائی دیتا ہے نظر نظر کی ہے اور اپنے اپنے ظرف کی بات مجھے تو قطرے میں دریا دکھائی دیتا ہے برا کہے جسے دنیا برا نہیں ہوتا مری نظر میں وہ اچھا دکھائی دیتا ہے نہیں فریب نظر یہ یہی حقیقت ہے مجھے تو شہر بھی صحرا دکھائی دیتا ہے ہیں صرف کہنے کو بجلی کے قمقمے روشن ہر ایک سمت اندھیرا دکھائی دیتا ہے عجیب حال ہے سیلاب بن گئے صحرا جسے بھی دیکھیے پیاسا دکھائی دیتا ہے
ajiib shahr kaa naqshaa dikhaai detaa hai
41 views
دل کی دہلیز سونی سونی ہے اب تمناؤں کی برات نہیں جا لگے گا سفینہ ساحل سے نا خدا لاکھ اپنے سات نہیں لوگ پھر کیوں خوشی پہ مرتے ہیں جانتے ہیں اسے ثبات نہیں دن بنے گی نہ رات کس نے کہا دن نہ ہوگا کبھی یہ رات نہیں اتنے تنہا نہ تھے کبھی آسیؔ یاد بھی ان کی اب تو سات نہیں
dil ki dahliz suuni suuni hai
41 views
سرشار ہوں ساقی کی آنکھوں کے تصور سے ہے کوئی غرض مجھ کو بادہ سے نہ ساغر سے اس دور میں میخانے کا نظم نرالا ہے پی کر کوئی بہکے ہم اک جرعہ کو بھی ترسے کتنے ہیں جو اک قطرہ سے پیاس بجھاتے ہیں سیراب نہیں ہوتے کچھ لوگ سمندر سے ہشیار بہت رہنا ہے آج کے راہی کو جتنا نہیں رہزن سے ڈر اتنا ہے رہبر سے جرأت کے دھنی جو ہیں مے خانہ ہی ان کا ہے جرأت نہ ہو جس میں وہ اک جام کو بھی ترسے اس دل کو سمجھنا کچھ آسان نہیں پیارے یہ سخت ہے پتھر سے نازک ہے گل تر سے سوچا تھا نہ پیمانہ اب منہ سے لگاؤں گا کیا خیر ہو توبہ کی جب گھر کے گھٹا برسے ان سے کوئی کہہ دے وہ خود اپنا مقدر ہیں جو لوگ گلہ کرتے ہیں اپنے مقدر سے
sarshaar huun saaqi ki aankhon ke tasavvur se
41 views
سر جھکائے سر محشر جو گنہ گار آئے اس کے انداز پہ رحمت کو نہ کیوں پیار آئے جام و پیمانہ سے مے خانہ سے کیا کام اسے ہو کے ساقی کی نگاہوں سے جو سرشار آئے دی صدا دل نے ذرا اور بھی دشوار ہو راہ راستے جب بھی مرے سامنے ہموار آئے زندگی کیوں نہ مرے موت پہ ان کی جو لوگ مسکراتے ہوئے زنداں سے سر دار آئے میں نے تزئین چمن کے لئے خوں اپنا دیا پائے پھول اوروں نے حصے میں مرے خار آئے بانکپن اپنی طبیعت کا کبھی کم نہ ہوا سامنے اپنے کوئی لاکھ طرح دار آئے ایسے جاں بازوں کی بن جائے نہ کیوں موت حیات مسکراتے ہوئے آسیؔ جو سر دار آئے
sar jhukaae sar-e-mahshar jo gunahgaar aae
41 views





