
Abbas Iraqi
Abbas Iraqi
Abbas Iraqi
Ghazalغزل
غیر سے رسم و راہ کیوں میں نے سنا دیا کہ یوں اس نے پکڑ کے ہاتھ سے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں مجھ کو نکما کہہ دیا میں نے کہا بھلا یہ کیوں آئنہ لے کے ہاتھ میں اس نے دکھا دیا کہ یوں مردہ دلوں میں زندگی آتی ہے کیسے عود کر رخ سے نقاب زلف کو اس نے ہٹا دیا کہ یوں پیار سے پیش آ کے جو وجہ ملال پوچھ لی محشر شور سے جہاں سر پر اٹھا دیا کہ یوں دل کو لگی ہے ٹھیس گر مجھ کو بتا دے ماجرا قطرۂ اشک آنکھ سے اس نے گرا دیا کہ یوں پوچھا ہمارا حال دل جس نے عراقیؔ پیار سے اپنا کلام ایک بار پڑھ کے سنا دیا کہ یوں
ghair se rasm-o-raah kyon main ne sunaa diyaa ki yuun
41 views
مجھے بے رخی پہ تیری اگر اختیار ہوتا تو میں بزم سے نہ اٹھتا نہ میں شرمسار ہوتا یہی آرزو تھی میری ترے در پہ جان دے دوں تری رہ گزر میں ظالم مرا اک مزار ہوتا دل ناصبور میں بس یہی اک ہوس ہے باقی مری زیست کا فسانہ کہیں یادگار ہوتا جو قفس میں آ گئے ہم کریں غیر چارہ سازی اے نصیب کوئی اپنا مرا غم گسار ہوتا میں نہ کھیلتا عراقیؔ کبھی زندگی سے اپنی تری اس وفا پہ مجھ کو اگر اعتبار ہوتا
mujhe be-rukhi pe teri agar ikhtiyaar hotaa
41 views
نور تیرا ہی جا بجا پایا کہیں چھپ کر کہیں کھلا پایا زخم دل مل گیا زہے قسمت ساری محنت کا یہ صلہ پایا سادہ دل سادگی طبیعت میں درد سینے کا من چلا پایا آدمیت ہوئی ہے دور اب تو سب کا ایماں ملا جلا پایا جان کیا چیز ہے کروں قرباں دل میں تیرا ہی نقش پا پایا
nuur teraa hi jaa-ba-jaa paayaa
41 views
کفن باندھے ہوئے سر پر یہاں احرار بیٹھے ہیں جلا کر اپنے ہاتھوں سے یہ سب گھر بار بیٹھے ہیں صبا تو چھیڑتی ہے بے سبب اس دل شکستہ کو کہ جی میں عشق کا ہم تو لیے آزار بیٹھے ہیں انا معدوم ہے ان کی جو ذلت مول لیتے ہیں کہ لے کر اپنی عصمت کو سر بازار بیٹھے ہیں زمانہ ہو گیا شاطر عراقیؔ پاس اپنا رکھ جنہیں بچنے کا فن آتا ہے وہ ہشیار بیٹھے ہیں
kafan baandhe hue sar par yahaan ahraar baiThe hain
41 views
شدت درد نہانی اور ہے ان کی مجھ سے کھینچا تانی اور ہے ہم سبک سر بھی جو ہو کر رہ گئے اس پہ ان کی سرگرانی اور ہے کچھ بھی ہو اپنا بنا لیں گے تجھے ہم نے اپنے دل میں ٹھانی اور ہے اور ہے ان کا تقاضا دیکھیے بات قاصد کی زبانی اور ہے ہے عراقیؔ تجھ کو کس کا انتظار چند گھڑیوں کی کہانی اور ہے
shiddat-e-dard-e-nihaani aur hai
41 views
تسکین دل جو پائے تو پھر اضطراب کیا مجھ کو پتہ نہیں کہ گنہ کیا ثواب کیا تقدیس عشق پر نہ کوئی حرف آ سکے بھٹکے جو راہ سے تو پھر ایسا شباب کیا ہم جام کے اسیر نہیں غور سے یہ سن آنکھوں سے پی نہ جائے تو پھر وہ شراب کیا وہ سامنے ہیں اور زباں ہے مری خموش نیچی نگاہ میں ہیں سوال و جواب کیا آتش سے جوش عشق کی ہو سوختہ جگر لذت ملے نہ غیر کو ایسا کباب کیا
taskin-e-dil jo paae to phir iztiraab kyaa
41 views





