Abdul Aleem Aasi
Abdul Aleem Aasi
Abdul Aleem Aasi
Ghazalغزل
وہ اگر بے حجاب ہو جاتا خلق میں انقلاب ہو جاتا دل سے ہوتی اگر دوئی معدوم ذرہ بھی آفتاب ہو جاتا حشر تک ہوش میں نہ آتے کلیمؔ وہ اگر بے نقاب ہو جاتا آتش عشق نے جگر پھونکا دل بھی جل کر کباب ہو جاتا تم پلاتے جو ہاتھ سے اپنے ہر قدح آفتاب ہو جاتا عشق میں لطف ہے تڑپنے کا یہ سکون اضطراب ہو جاتا دل لگانا ثواب تھا لیکن جی چھڑانا عذاب ہو جاتا نہ لگاتے بتوں سے دل عاصی نہ زمانہ خراب ہو جاتا
vo agar be-hijaab ho jaataa
41 views
اسی کے جلوے تھے لیکن وصال یار نہ تھا میں اس کے واسطے کس وقت بے قرار نہ تھا کوئی جہان میں کیا اور طرح دار نہ تھا تری طرح مجھے دل پر تو اختیار نہ تھا خرام جلوہ کے نقش قدم تھے لالہ و گل کچھ اور اس کے سوا موسم بہار نہ تھا غلط ہے حکم جہنم کسے ہوا ہوگا کہ مجھ سے بڑھ کے تو کوئی گناہ گار نہ تھا لحد کو کھول کے دیکھو تو اب کفن بھی نہیں کوئی لباس نہ تھا جو کہ مستعار نہ تھا تو محو گلبن و گلزار ہو گیا آصیؔ تری نظر میں خیال جمال یار نہ تھا
usi ke jalve the lekin visaal-e-yaar na thaa
41 views
حجاب گنج مخفی میں نہاں تھے الٰہی ہم کہاں آئے کہاں تھے کسی نے بھی نہ دیکھا ہم جہاں تھے بدن تھے خلق ہم مانند جاں تھے بسان نالہ سر کھینچا ہے باہر ہم اہل درد کے دل میں نہاں تھے نکالا کرتے تھے بالوں کی کھالیں کبھی ہم بھی خیال شاعراں تھے رہے رستے میں قدموں سے چپٹ کر مگر ہم نقش پائے رفتگاں تھے جب اس کوچے کی حاصل تھی گدائی خداوند زمین و آسماں تھے ہوئے ظاہر بسان نور باطن دل ارباب دل میں ہم نہاں تھے ترے کوچے میں جب چلنا پڑا تھا بسان اشک آنکھوں سے رواں تھے کچھ ایسے نشۂ ہستی سے بہکے نہیں جانا کہاں آئے کہاں تھے سراپا درد تھے مانند دل ہم مرض تھے پر نصیب دوستاں تھے کہاں بات اس کی الفت کی کہاں دل یہ درہم گنج مخفی میں نہاں تھے نہ دوڑے جز سوائے کوچۂ یار مگر ہم بھی خیال دوستاں تھے نہ کیوں صیاد وقت مرگ آتا کہ ہم باغ جہاں میں مرغ جاں تھے نہ ہرگز بزم ساقی میں رکے ہم مگر دور شراب ارغواں تھے حمائل تھے گلوئے دخت رز میں کے ہم دست خیال میکشاں تھے رہی راتوں کو اکثر سیر افلاک مگر ہم تیر آہ بے کساں تھے کہاں ڈالا خلل وصل عدوین گجر ہی تھے نہ ہم بانگ اذاں تھے بہار باغ ہستی تھی ہمیں سے نظر سے گو برنگ بو نہاں تھے عیاں ایسے کہ ہر شے میں نہاں ہم نہاں ایسے کہ ہر شے سے عیاں تھے نہ تھا معشوق جس میں غیر عاشق عجب خلوت تھی وہ بھی ہم جہاں تھے اٹھے ہم اٹھ گیا پردا دوئی کا ہمارے اس کے بس ہم درمیاں تھے چلیں زیر زمیں بے بال و پر آج کبھی ہم طائر عرش آشیاں تھے نہ شکر اس کا کیا تلوار کھا کر کہ زخم اپنے دہان بے زباں تھے کچھ ایسی تھی شب غم کی چڑھائی کہ نالے شمع بزم لامکاں تھے گئے وہ دن کہ ہر دم یہ جگر دل لہو بن بن کے آنکھوں سے رواں تھے نہ رہتے تھے ٹھکانے ایک ساعت کبھی ہم بھی حواس عاشقاں تھے گلستان جہاں میں کون ٹھہرا جو سرو آئے نظر سرو رواں تھے خدا نے ان کو پہنچایا ہدف تک خدنگ آہ تیر بے کماں تھے جو اس محفل میں ہم جانے بھی پائے پیا پے آنسو آنکھوں سے رواں تھے نہ نکلی بات منہ سے صور شمع زبان ایسی تھی گویا بے زباں تھے مرے پہلو میں کل بیٹھے تھے آسی مگر جب تک تھے مثل دل تپاں تھے
hijaab-e-ganj-e-makhfi mein nihaan the
41 views
کبھی اے حقیقت دلبری سمٹ آ نگاہ مجاز میں کہ تڑپ رہے ہیں ہزاروں دل رہ عشق سینہ گداز میں یہ کشش یہ جذب یہ معجزہ نگہ یتیم حجاز میں کہ پڑے تھے سیکڑوں غزنوی بھی جہاں لباس مجاز میں فقط ایک نقطہ گناہ کا سر چرخ ابر سیہ بنا نظر آئیں مجھ کو جو وسعتیں تری عفو بندہ نواز میں یہ نہیں کہ ہم میں نہیں ہیں وہ یہ نہیں کہ عین ہمی ہیں وہ مگر اک حقیقت معنوی ہے نہاں لباس مجاز میں نہ انا غلط تھا نہ حق غلط مگر اتنی سی غلطی ہوئی یہ جو راز تھا اسے چاہیے تھا چھپانا پردۂ راز میں جسے پی کے پیر بنے جواں جسے پی کے چیخ اٹھے جواں یہ وہ مے ہے ساقیٔ مے کشاں تری چشم بادہ نواز میں
kabhi ai haqiqat-e-dilbari simaT aa nigaah-e-majaaz mein
41 views
حسن کی کم نہ ہوئی گرمئ بازار ہنوز نقد جان تک لیے پھرتے ہیں خریدار ہنوز اپنی عیسیٰ نفسی کی بھی تو کچھ شرم کرو چشم بیمار کے بیمار ہیں بیمار ہنوز طائر جاں قفس تن سے تو چھوٹا لیکن دام گیسو میں کسی کے ہے گرفتار ہنوز ہم بھی تھے روز ازل صحبتیں بزم الست بھولتی ہی نہیں وہ لذت گفتار ہنوز ساتھ چھوڑا سفر ملک عدم میں سب نے لپٹی جاتی ہے مگر حسرت دیدار ہنوز کیا خراباتیوں کو حضرت عاصی نہ ملے کہ سلامت ہے وہی جبہ و دستار ہنوز
husn ki kam na hui garmi-e-baazaar hanuz
41 views
اپنی ہستی سے تھا خود میں بد گماں کل رات کو کچھ نہ تھا اندیشۂ سود و زیاں کل رات کو چاندنی برسات صحن گلستاں دل کش ہوا تھیں ہجوم غم میں یہ رنگینیاں کل رات کو وسعت تخیئل کے حلقے میں تھا عرش بریں دیکھتی تھیں چشم دل کون و مکاں کل رات کو مل رہے تھے دست الفت سے مجھے جام شراب مہرباں تھا وہ بت نا مہرباں کل رات کو وہ محبت کی نگاہیں وہ محبت کے کلام ہاں دوبالا تھی ادائے دل ستاں کل رات کو ہر نظر پیغام ہر انداز میں رقصاں امید اور ہی تھا اس کا طرز امتحاں کل رات کو عفت الفت سے تھی آئینۂ دل کی جلا ورنہ تھا جذبات کا دریا رواں کل رات کو ذوق سے وہ سن رہے تھے داستان غم مری ہو رہا تھا انقلاب آسماں کل رات کو دل کی اک آواز تھی اس بزم میں تفسیر غم ہو چکے تھے وہ بھی مجبور فغاں کل رات کو تفرقہ بے اعتمادی دشمنی مکر و فریب تھی تری تعبیر اے ہندوستاں کل رات کو سو چکے تھے چند ہی گھنٹوں میں ارباب نشاط صبح تک تھا ساتھ وہ آرام جاں کل رات کو رنگ صہبا چشم نرگس میں تھا آسیؔ وقت صبح جاگنے سے ہو رہی تھیں خوں فشاں کل رات کو
apni hasti se thaa khud main bad-gumaan kal raat ko
41 views





