SHAWORDS
A

Abdul Qadir

Abdul Qadir

Abdul Qadir

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

aasmaan sar pe uThaayaa bhi nahin jaaegaa

آسماں سر پہ اٹھایا بھی نہیں جائے گا ہاں مگر اس کو بھلایا بھی نہیں جائے گا حوصلہ اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن ہم سے دوسرا عشق نبھایا بھی نہیں جائے گا شکوۂ ظلمت شب خوب کیا جائے گا اک دیا خود کا جلایا بھی نہیں جائے گا خاک اس شخص سے تعبیر پہ اسرار کریں جس سے کچھ خواب دکھایا بھی نہیں جائے گا تم نے اچھا ہی کیا ترک محبت کر کے تم سے یہ مصرع اٹھایا بھی نہیں جائے گا وہ بھی ممکن ہے نہ آنے کے بہانے ڈھونڈے اور اب ہم سے بلایا بھی نہیں جائے گا پوچھنے آئے ہیں احوال وہ عبدالقادرؔ کیا بتائیں کہ بتایا بھی نہیں جائے گا

غزل · Ghazal

jab se us ko nazar mein rakkhaa hai

جب سے اس کو نظر میں رکھا ہے ہوش کو ہم نے گھر میں رکھا ہے آنکھ حیران ہے کہ ہم نے بھی کیا نظارہ نظر میں رکھا ہے حوصلوں سے اڑان بھر پیارے کیا بھلا بال و پر میں رکھا ہے باہری رنگ و نور خوب سہی پر خزانہ تو گھر میں رکھا ہے ہے فقط عادتوں کا اک دفتر ورنہ کیا خاک گھر میں رکھا ہے پاؤں کس رہ گزر میں رکھنا تھا پاؤں کس رہ گزر میں رکھا ہے ہاں یہ تیرا ہی نام ہے ہاں ہاں جو مری چشم تر میں رکھا ہے ہے فقط گرم جھوٹ کا بازار کیا بھلا اب خبر میں رکھا ہے جو اتارا نہ جا سکے ہم سے ہم نے وہ سودا سر میں رکھا ہے آخرت عن قریب ہے قادرؔ کیا کیا زاد سفر میں رکھا ہے

غزل · Ghazal

ham nahin milte nahin milte hain ham shaam ke baad

ہم نہیں ملتے نہیں ملتے ہیں ہم شام کے بعد پھر بھی آ جاتے ہیں کچھ اہل کرم شام کے بعد دن وہ ظالم ہے کہ ڈھاتا ہے ستم شام کے بعد بڑھتا جاتا ہے مرا کوہ الم شام کے بعد جانے لگ جاتے ہیں سب سوئے حرم شام کے بعد اور وہاں پھر سے وہی جھوٹی قسم شام کے بعد اپنی یادوں سے غم شام کی چھٹی رکھیں ہونے لگ جاتی ہے آنکھ اور بھی نم شام کے بعد بیوی بچوں کی ہنسی اصل کمائی ہے مری بس یہی بچتی ہے لے دے کے رقم شام کے بعد میکدہ سارے مسائل کو مٹا دیتا ہے مسئلہ دیں کا وہاں ہے نہ دھرم شام کے بعد دن میں تو خوب ستائش کی سند ملتی ہے کھلتے جاتے ہیں مرے سارے بھرم شام کے بعد وہ جو جاتا ہے تو مجھ کو بھی لئے جاتا ہے ہائے ہو جاتا ہوں میں اور بھی کم شام کے بعد آج کیا لینا ہے کیا کھانا ہے عبدالقادرؔ سر اٹھائے ہوئے پھرتے ہیں یہ غم شام کے بعد

غزل · Ghazal

koi divaar na dar khultaa hai

کوئی دیوار نہ در کھلتا ہے پر مرا عزم سفر کھلتا ہے بڑی مشکل سے وہ در کھلتا ہے یہ الگ بات مگر کھلتا ہے ہم ہی دیوانے بنے پھرتے ہیں کب ترا ذوق نظر کھلتا ہے ماں تو رو لیتی ہے لیکن یارو کب یہاں کوئی پدر کھلتا ہے پردۂ عشق ہے لازم ورنہ میں ادھر اور وہ ادھر کھلتا ہے شعر در شعر کہے جاتے ہیں تب کہیں جا کے ہنر کھلتا ہے میرے نزدیک وہ عبدالقادرؔ پورا کھل جاتا ہے گر کھلتا ہے

غزل · Ghazal

sar mein saudaa koi baaqi na junun hai yuun hai

سر میں سودا کوئی باقی نہ جنوں ہے یوں ہے اب تو آرام ہے راحت ہیں سکوں ہے یوں ہے اس سے ملنے کے بہانے تو بہت ہیں لیکن اس سے ملنا مرے پندار کا خوں ہے یوں ہے ناصحا تجھ کو خبر سب ہے محبت کیا ہے ورنہ یوں ہی نہیں سمجھا تھا کہ یوں ہے یوں ہے ہم ہیں محتاج ہر اک کام کے کرنے میں یہاں رب کا ہر کام فقط کن فیکوں ہے یوں ہے کتنی رغبت تھی تری یاد سے پہلے مجھ کو اور تری یاد بھی اب کار زبوں ہے یوں ہے پھر وہی کل کی طرح دیر سے گھر آؤ گے پھر وہی عذر بتاؤگے کہ یوں ہے یوں ہے پہلے کچھ بات بھی ہو جاتی تھی اس سے قادرؔ اور اب اس سے مری ہاں ہے نہ ہوں ہے یوں ہے

غزل · Ghazal

ab kyaa ye hisaab kitaab rakkhein kis kis ne hamein barbaad kiyaa

اب کیا یہ حساب کتاب رکھیں کس کس نے ہمیں برباد کیا کس کس نے خوشیاں دیں ہم کو کس کس نے ہمیں ناشاد کیا اک آس تھی سو وہ ٹوٹ گئی اک سانس تھی وہ بھی چھوٹ گئی اب یہ کاہے کی ہچکی ہے اب کون ہے جس نے یاد کیا وہ عشق تھا یا مجبوری تھی اب تک یہ معمہ حل نہ ہوا ہر روز معافی کے بدلے اک تازہ ستم ایجاد کیا آسان نہیں تھا اس کے بنا پر گزر گئی جو گزرنی تھی وہ دل جو کبھی اجاڑا ہی نہیں ترے غم نے جسے آباد کیا یہ پیار ویار کی باتیں سب دنیا جسے شعر سمجھتی ہے سب اس کی جفا کے قصے ہیں جس نے ہمیں لائق داد کیا جب تم ہی نہیں حاصل ہم کو کیا حاصل دنیا ملنے سے بے جا یہ خواہش عشق رہی بے جا خود کو فرہاد کیا برباد تو ہونا تھا آخر اک دن تو کسی کے ہاتھوں سے پر ناز کرو عبدالقادرؔ کہ اس نے تمہیں برباد کیا

Similar Poets