Abdul Qavi Ziya
Abdul Qavi Ziya
Abdul Qavi Ziya
Ghazalغزل
dil to kyaa jaan se guzarnaa aayaa
دل تو کیا جاں سے گزرنا آیا جی اٹھے لوگ جو مرنا آیا صرف جب تک نہ ہوا دل کا لہو حرف میں رنگ نہ بھرنا آیا ہو گئے سارے سمندر پایاب جب ہمیں پار اترنا آیا فصل گل آئی تو ہر غنچے کو زخم کی طرح نکھرنا آیا جو نفس تھا وہ رہا گرم سفر کب مسافر کو ٹھہرنا آیا اک گل تر کی محبت میں ہمیں کتنے کانٹوں سے گزرنا آیا وہ ادب عشق نے بخشا کہ ہمیں مدتوں بات نہ کرنا آیا دل پہ اپنے جو پڑی ضرب ضیاؔ ٹوٹ کر ہم کو بکھرنا آیا
harf mein khun-e-jigar kis kaa hai
حرف میں خون جگر کس کا ہے ہم سے پوچھو یہ ہنر کس کا ہے اجنبی ہے نہ شناسا کوئی ایک سایہ سا مگر کس کا ہے ہجر کی شب کو لہو ہم نے دیا اب کہو رنگ سحر کس کا ہے خلوت جاں میں ہے اک ہلچل سی اس طرف قصد سفر کس کا ہے تو اگر سامنے موجود نہیں حسن تا حد نظر کس کا ہے سنگ ہی سنگ ہیں آنگن میں ضیاؔ پس دیوار شجر کس کا ہے
koi basti koi qarya nahin hai
کوئی بستی کوئی قریہ نہیں ہے جہاں میں نے تجھے پایا نہیں ہے جدھر دیکھو سکوت بے کراں ہے سر مقتل تو سناٹا نہیں ہے دیے بجھ جائیں تو بجھتی نہیں ہے ہوا کو کیوں یہ اندازہ نہیں ہے عجب بستی ہے جس میں آ بسے ہیں سبھی جھوٹے کوئی سچا نہیں ہے ضیاؔ میں نے جسے سمجھا ہے برسوں اسے دیکھا مگر دیکھا نہیں ہے
aankhon mein hain jo khvaab koi jaantaa nahin
آنکھوں میں ہیں جو خواب کوئی جانتا نہیں اس دل کا اضطراب کوئی جانتا نہیں ہے اپنی اپنی پیاس کا ہر ایک کو خیال دریا بھی ہے سراب کوئی جانتا نہیں یہ جانتے ہیں لوگ کہ انجام کیا ہوا کیوں آیا انقلاب کوئی جانتا نہیں ذرے کی روشنی کو سمجھتے ہیں سب حقیر ہے وہ بھی آفتاب کوئی جانتا نہیں اک حشر سا بپا ہے عناصر کے درمیاں کس میں ہے کتنی تاب کوئی جانتا نہیں دعویٰ تو اپنے علم کا سب کو ہے اے ضیاؔ کیا چیز ہے کتاب کوئی جانتا نہیں
ho gai aam mohabbat ki kahaani kitni
ہو گئی عام محبت کی کہانی کتنی خاک لوگوں نے ترے شہر کی چھانی کتنی تم نہیں تھے تو کھٹکتے تھے ان آنکھوں میں چراغ تو جو آئے تو ہوئی رات سہانی کتنی اک محبت کے حوالے سے سنی ہیں ہم نے داستانیں تری آنکھوں کی زبانی کتنی بارہا سلسلۂ عہد بہاراں کے حضور غنچہ و گل پہ ہوئی فاتحہ خوانی کتنی آئے وہ اور گئے دل میں چراغاں کر کے ایک لمحے میں ہوئی بات پرانی کتنی
naa-mukammal hain abhi takmila-e-zaat karein
نا مکمل ہیں ابھی تکملۂ ذات کریں ان کو دیکھیں تو خود اپنے سے ملاقات کریں آپ آئیں تو ذرا آپ سے کچھ بات کریں ہونٹ سی لیں مگر آنکھوں سے سوالات کریں گردشوں سے یہ کہو رخ نہ کریں گھر کی طرف اب وہ ہم سے سر مے خانہ ملاقات کریں آپ کے بارے میں سوچا تو بہت تھا لیکن اب ہم اس سوچ میں ہیں آپ سے کیا بات کریں رخ پہ کیا رنگ ہے کیسی ہے ان آنکھوں کی فضا دل جو ٹھہرے تو کچھ اندازۂ حالات کریں گھر کی تنہائی سے کیوں اتنے پریشاں ہو ضیاؔ آؤ اک بت کے حوالے سے بسر رات کریں





