
Abdullah Zreem
Abdullah Zreem
Abdullah Zreem
Ghazalغزل
وہ بہ ہوش و حواس ڈوب گئے جو کناروں کے پاس ڈوب گئے زہر آلود جھیل تھی جس میں رات ہم بے لباس ڈوب گئے تیرتے پھر رہے ہیں نو مولود اور طوفاں شناس ڈوب گئے کیا ٹھہرتا ہے بحر غفلت پر میرے خالی گلاس ڈوب گئے زندگی کے جوے میں کچھ بھی نہیں جو ترے سو پچاس ڈوب گئے
vo ba-hosh-o-havaas Duub gae
وہ حسیں لوگ تھے مکرتے رہے اہل دل اعتبار کرتے رہے یاد آتی رہی تپش تیری سرد شاموں میں ہم ٹھٹھرتے رہے ان پہ لکھے گئے سبھی اشعار کاغذوں پر ہی بین کرتے رہے باؤلے ہو کے اس بدن کے بعد گھر کی الماریوں کو بھرتے رہے اس نے جانا تھا ایک شادی میں آئنے سارا دن سنورتے رہے
vo hasin log the mukarte rahe
ہے ستم کوئی چاہیے مجھ کو ویسے کم کوئی چاہیے مجھ کو رات میں چاند بھی نہیں درکار صبح دم کوئی چاہیے مجھ کو کیا ہوا ہے مری طبیعت کو ایک دم کوئی چاہیے مجھ کو کچھ تو آسودگیٔ طبع بھی ہو کوہ غم کوئی چاہیے مجھ کو وقت تھوڑا ہے میرے پاس مگر دم بہ دم کوئی چاہیے مجھ کو
hai sitam koi chaahiye mujh ko
وہ مجھ سے دور ہٹتی جا رہی ہے دیے کی لو سمٹتی جا رہی ہے میں خوش ہوں اور میری زندگی اب بہت تیزی سے گھٹتی جا رہی ہے صدائیں آسماں تک یوں نہ پہنچیں زمیں جیسے لپٹتی جا رہی ہے ہمارے خواب پورے ہو رہے ہیں ہماری نیند گھٹتی جا رہی ہے ہمارے درمیاں تھی یاد کی ڈور جو اک جانب سے کٹتی جا رہی ہے
vo mujh se duur haTti jaa rahi hai
دست تعزیر چومنے والے ہم ہیں زنجیر چومنے والے یہ حقیقت پسند تھوڑی ہیں تیری تصویر چومنے والے رہ گیا کھیل شاہزادی کا مر گئے تیر چومنے والے یوں دکھاتے ہیں حسن قاتل کا نوک شمشیر چومنے والے تیرے خط کو شفا سمجھتے ہیں تیری تحریر چومنے والے صرف باتیں ہی کر سکا رانجھا لے گئے ہیر چومنے والے کیوں کریں جرأت شکایت بھی دست تقدیر چومنے والے اس کے ماتھے کو چومتے ہیں ضریمؔ ماہ تنویر چومنے والے
dast-e-taa’zir chumne vaale
پڑا ہے ہجر تو ایسے ہی جی لبھاتے ہیں اب اس کے جادو بدن کے ترانے گاتے ہیں ہمیں منا بھی لیا کر کہ مان رہ جائے ہم ایسے لوگ مروت میں روٹھ جاتے ہیں نمی تو خاک کی تہہ میں قیام کرتی ہے ہم ایسے ہیں نہیں جیسا تمہیں دکھاتے ہیں تم اتنی دیر میں مجبوریاں بنا لو کہ ہم گئے دنوں کی رفاقت اٹھا کے لاتے ہیں ہم اس کے ذہن پہ اک عرصہ تک سوار رہے سو بقیہ عمر یہی اک خوشی مناتے ہیں جوان ہوتے ہی جس نے بکھرنا ہوتا ہے ہم ایسے خواب کو اپنا لہو پلاتے ہیں
paDaa hai hijr to aise hi ji lubhaate hain





