SHAWORDS
Abdussalam Asim

Abdussalam Asim

Abdussalam Asim

Abdussalam Asim

poet
17Ghazal

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

سمجھنے سے سوا سمجھانے کا سب کو جنوں کیوں ہے لبوں پر طنز کے کلمات ہیں آنکھوں میں خوں کیوں ہے جو بس زخم بروں کو بھرنے سے رکھتے ہیں دلچسپی انہیں ہم کیسے بتلائیں ہمیں سوز دروں کیوں ہے رواداری جو سننے کی تھی اب وہ بھی نہیں باقی مرے سینے میں جو تکلیف ہے کیسے کہوں کیوں ہے اسی تفہیم سے محرومی کا حاصل ہے یہ منظر مجھے بے چینیاں کیوں ہیں تمہیں اتنا سکوں کیوں ہے ہمارے روز و شب جب سب حقیقت ہیں تو پھر عاصمؔ کوئی رخ ہو ہماری سوچ کا محور فسوں کیوں ہے

samajhne se sivaa samjhaane kaa sab ko junun kyon hai

41 views

غزل · Ghazal

رات اپنے بدن کی خوشبو سے کاش مہکاتی سب کی سانسوں کو کاش ہر رنگ سے سجاتا میں اپنی غزلوں کو اپنی نظموں کو کاش ہر کاروبار دنیا میں راس آئے قرار نظروں کو کاش ہم ہوتے برتری کی مثال خار کرتے نہ اپنے سجدوں کو کاش آدم کو سجدہ کرنے پر رشک آتا سبھی فرشتوں کو کاش ہم اپنی قدر کرتے آپ بخشتے افتخار نسلوں کو کاش فرقوں میں ہم نہ یوں عاصمؔ بانٹتے اپنے پیارے بچوں کو

raat apne badan ki khushbu se

41 views

غزل · Ghazal

کہنے کو ہو چکا ہوں میں فارغ بہ روزگار آلام روزگار سے ممکن نہیں فرار جس دل پہ صرف میرا ہی حق ہونا چاہئے وہ اب بھی میرے پاس ہے پر وقف انتشار کل بھی تھا اور کل بھی رہے گا بہر لحاظ راہ سفر کا حصہ چمن زار خار زار موسم ہے فصل گل کا مگر دل کے باغ میں ہیں ٹہنیاں اداس تو شاخیں ہیں بے بہار خازن ہوں نظم و نثر کے سرمائے کا مگر ممکن نہیں ہے مجھ سے کتابوں کا کاروبار نقد و نظر سے لیتا ہے عاصمؔ بھی شاذ کام رکھتا نہیں کبھی کوئی سودا مگر ادھار

kahne ko ho chukaa huun main faarigh-ba-rozgaar

41 views

غزل · Ghazal

اشعار میں مفہوم فسانے میں کہانی مت ڈھونڈ کہ الجھاتے ہیں الفاظ و معانی صد شکر وہ تعبیر سے مشروط نہیں تھیں بچپن میں سنا کرتے تھے جو خواب کہانی وہ زندگی جو پانے اور کھونے سے سوا ہو زیب اس کو نہیں دیتی کبھی مرثیہ خوانی فطرت کے تقاضے پہ نہ کر راہ عمل بند اقبال کی یہ بات کسی نے بھی نہ مانی تکمیل جنوں اب بھی ہے اس مصرع سے مشروط اے چاند مبارک ہو تجھے رات سہانی خوش حالیاں دہلی کی بجا آج بھی لیکن یاد آتی ہے کلکتے کی وہ شوخ جوانی پردیس میں بس ذہن سے آباد ہے عاصمؔ دل سے نہیں کر پایا کبھی نقل مکانی

ashaar mein mafhum fasaane mein kahaani

40 views

غزل · Ghazal

اخبار کیا کہ اپنی بھی خیر و خبر سے دور کچھ روز چل کے رہتے ہیں فکر و نظر سے دور پہلے تھیں راتیں غیر ضروری سفر سے دور اب دن گزارنا نہیں آسان گھر سے دور شب سے سحر سے شام سے پچھلے پہر سے دور ہر جستجو ہے جیسے گزر سے بسر سے دور رکھ ذہن کو فتور سے اور دل کو ڈر سے دور مطلوب ہے شعور کو رکھنا جو شر سے دور ہر طرح کے گریز حذر اور مفر سے دور آ چل کے دیکھیں اب کسی سیدھی ڈگر سے دور از خود نہیں یہ سارے مسخر نظر سے دور ہم دن میں شمس اور ہیں شب میں قمر سے دور

akhbaar kyaa ki apni bhi khair-o-khabar se duur

40 views

غزل · Ghazal

کسی کے دکھ سے نہ کر سکھ کشید توبہ کر ابھر نہ وقت کا بن کر یزید توبہ کر فصیل ذات سے باہر نکل کہ یہ دنیا ترے بھرم سے ہے مطلق بعید توبہ کر نگاہ شوق کو جلوے سے یوں نہ رکھ محروم ہے شرک جرأت انکار دید توبہ کر کہ نظم مے کدہ رندوں کی تاب لا نہ سکے بڑھا نہ تشنگی اتنی شدید توبہ کر جو نظم و نثر کا ہے فرق اس کو قائم رکھ ادب کی کر نہ یوں مٹی پلید توبہ کر جہان نو میں عجائب گھروں کی زینت ہیں تمام غازی تمامی شہید توبہ کر نجات کے لئے مہلت بچی ہے کم اب اور نہ کر ضمیر کی بیع و خرید توبہ کر

kisi ke dukh se na kar sukh kashid tauba kar

40 views

Similar Poets