
Abdussalam Nadvi
Abdussalam Nadvi
Abdussalam Nadvi
Ghazalغزل
ghubaar-e-maasiyat ki is tarah ki shust-o-shu barson
غبار معصیت کی اس طرح کی شست و شو برسوں مئے ساقی سے اے زاہد کیا میں نے وضو برسوں زبان بے زبانی ہم سے بڑھ کر کون سمجھے گا تری تصویر سے فرقت میں کی ہے گفتگو برسوں نہ پیاس اپنی بجھے گی بادۂ کوثر سے جنت میں رہے گی روح میری کشتۂ جام و سبو برسوں
nashshe mein hain kabhi to kabhi hain khumaar mein
نشہ میں ہیں کبھی تو کبھی ہیں خمار میں اچھی گزر رہی ہے ترے انتظار میں گزرے گا روز حشر بھی اب انتظار میں شامل ہے یہ بھی وعدۂ فردائے یار میں چپ چاپ بھی نہ بیٹھ سکے بزم یار میں مجبوریاں بھی غیر کے تھیں اختیار میں تارے بھی جھلملا کے بہ حسرت ہوئے غروب کیا کیا بجھے چراغ شب انتظار میں توڑے سبو کو خاک کہ اب محتسب کو بھی خود لطف آ رہا ہے شکست خمار میں اے چشم شوق جلوۂ محبوب کے سوا کیا کیا نہ دیکھنا ہے تجھے انتظار میں لاکھوں قفس ہیں لائے گی کس کس میں بوئے گل چڑھنے لگے گی سانس صبا کی بہار میں
mire dil se aakhir vo baahar kahaan hain
مرے دل سے آخر وہ باہر کہاں ہیں رقیب اپنے اپنے ہی وہم و گماں ہیں پڑیں بھی تو کیا مجھ پہ شرمائی نظریں نہ یہ جاں فزا ہیں نہ یہ جاں ستاں ہیں ملے گا وہ کوچہ تو آوارگی سے مری رہنما میری گمراہیاں ہیں
chehre tak un ke mast gai be-khabar gai
چہرے تک ان کے مست گئی بے خبر گئی جب جب گئی نگاہ بہ نوع دگر گئی دشوار ہو گئے ہیں اشارے بھی ضعف میں اس کام سے بھی اب تو ہماری نظر گئی سامان غم بھی ہجر کی شب منتشر ہوا تڑپے تو آنسوؤں کی لڑی بھی بکھر گئی گو جس کی جستجو تھی وہ یوسف نہیں ملا لیکن مری نگاہ سے دنیا گزر گئی یوسف کو سستے دام زلیخا نے لے لیا تقدیر تھی کہ حسن کی قیمت ٹھہر گئی
kar de be-khud sunghaa ke zulf ki bu
کر دے بے خود سنگھا کے زلف کی بو چھین لے آج مجھ کو تو مجھ سے یاد اس چشم مست کی آئی چھین لو ساغر و سبو مجھ سے ہیں اشارے یہ موج مے کے شمیمؔ کر بھی لو آج تم وضو مجھ سے
harim-e-dil se yaa arsh-e-barin se
حریم دل سے یا عرش بریں سے تمہیں ہم ڈھونڈ لائیں گے کہیں سے ہوا مرنے پہ آغاز محبت شروع ہوتا ہے یہ قصہ یہیں سے بجھے دل کا چراغ اے شمع رو آج جلا دے اپنے روئے آتشیں سے جو اس کی جستجو میں گھر سے نکلے تو خود کھوئے گئے دنیا و دیں سے مری تقدیر ایسی چاندنی میں جو چمکے گی تو تم سی مہ جبیں سے صدا اس بام تک اب بھی نہ پہنچی پکار آئے اسے عرش بریں سے فلک سے پہلے ہی کوچے میں ان کے نپٹ لینا پڑا ہم کو زمیں سے چھپے چوری جو کچھ کرتا ہے زاہد کھلا راز اس کا اس پردہ نشیں سے تری انگڑائیاں کہتی ہیں مجھ سے تجھے کچھ ملنے والا ہے کہیں سے





