
Abhay Kumar Bebak
Abhay Kumar Bebak
Abhay Kumar Bebak
Ghazalغزل
گردش ایام ہم پر مہرباں کچھ کم نہیں یہ زمیں ہے خوں طلب تو آسماں کچھ کم نہیں دیر تک جاگی ہوئی آنکھوں میں سمٹی رات کو چند خوابیدہ چراغوں کا دھواں کچھ کم نہیں اپنے قدموں کے لہو سے ہے جو تحریر سفر وہ بھی تو اب کارواں در کارواں کچھ کم نہیں محفل ارباب فن میں احتراماً چپ ہوں میں ورنہ گویائی میں میری بھی زباں کچھ کم نہیں آدمی ہیں ہم تو ہے کس بات کا اتنا غرور خوبیوں کے ساتھ ہم میں خامیاں کچھ کم نہیں دشت جاں میں آئی ہے ببیاکؔ اک سرکش ہوا شمع دل کے پیش رو دشواریاں کچھ کم نہیں
gardish-e-ayyaam ham par mehrbaan kuchh kam nahin
41 views
توجہ کون دیتا ہے کسی پھیکی کہانی پر ہم ایسے میں کریں کیا بات اپنی زندگانی پر لبوں پر ہو تبسم اور آنکھوں میں نہ ہو پانی ہمیں حیرت ہوا کرتی ہے ایسی شادمانی پر ہمیں صورت بدلنے کا بھروسا کس طرح ہوگا رگوں میں خون کے بدلے رواں کچھ بوند پانی پر نیا کچھ بھی نہیں ہوتا کہ سب جاتے ہیں دنیا سے مگر حیراں بہت ہیں لوگ تیری نوحہ خوانی پر کسی کے دکھ پہ اس کے قہقہوں میں جان آتی ہے وہ تابندہ ہے غیروں کے غموں کی ترجمانی پر ہم اپنا بھی بھلا ببیاکؔ صاحب کر تو سکتے ہیں مگر سب چھوڑ دیتے ہیں تمہاری مہربانی پر
tavajjoh kaun detaa hai kisi phiki kahaani par
41 views
نہ روشنی ہے زیادہ نہ سخت اندھیرا ہے یہ غم کی شام ہے یا درد کا سویرا ہے جواں ہوا تو حجابوں نے ڈھک لیا اس کو اب اس کے بعد وہ دل تیرا ہے نہ میرا ہے ہمیں ملی بھی تو رہنے کو زندگی کی گلی بد اور نیک عمل کا جہاں پہ پھیرا ہے خود اپنے خون سے سینچا ہے زندگی کا شجر جو حسرتوں کے پرندوں کا اب بسیرا ہے بچی ہے دل میں فقط اک کرن مسرت کی اسے بھی یاس کی بدلی نے آن گھیرا ہے ہم اس قدر بھی اکیلے نہیں رہے ببیاکؔ دماغ و دل میں خلا اور ہو کا ڈیرا ہے
na raushni hai ziyaada na sakht andheraa hai
41 views
ذہن و دل میں پچھلی شب کی داستاں تو صاف ہو جھلملائیں گے ستارے آسماں تو صاف ہو غیر کو تو چھوڑ اس کا جو بھی ہو رد عمل بات لیکن تیرے میرے درمیاں تو صاف ہو رہروی جاری رہے بے شک ہو منزل کے خلاف کارواں پر حکم میر کارواں تو صاف ہو دل سمجھ لے گا اشارہ آپ کر کے دیکھیے شرط ہے لیکن نگاہوں کی زباں تو صاف ہو کس طرح آئے نظر ببیاکؔ اب زخم جگر روزن دل وا ہو چشم خونچکاں تو صاف ہو
zehn-o-dil mein pichhli shab ki daastaan to saaf ho
41 views
کوشش ہے شام ہی سے کہ محفل سجاؤں میں خوابوں کو ان کی نیند سے کیسے جگاؤں میں تعریف میری کر کے بھی تھکتے نہ تھے جو لوگ اب بھی وہی ہوں ان کو مگر کیا بتاؤں میں باد صبا کے سوز سے دل بھی نہ بچ سکا قصے بہار کے ہیں تجھے کیا سناؤں میں اس پر ہی اعتبار کروں آنکھ موند کر یا اس سے روز روز کے دھوکے ہی کھاؤں میں پھیکی رہی ہے میری چمک اس کی بزم میں اس کے قریب اور دئے کیا جلاؤں میں ببیاکؔ داستان حوادث ہے جب حیات کس کو کروں میں یاد کسے بھول جاؤں میں
koshish hai shaam hi se ki mahfil sajaaun main
41 views
جلائی گئی ہوا مگر اٹھا کہیں دھواں نہیں جو بچ گئے دیار میں وہ اپنے آشیاں نہیں لہو لہو زمین ہے لہو لہو ہے آسماں یہ نقش پائے دل سفر کے آخری نشاں نہیں کہاں گئے ہیں لوگ سب قرار و قول بھول کر تلاش میں بھٹک رہے ہیں ہم کہاں کہاں نہیں خدا خدا کا شور کیوں اٹھا مرے وجود پر میں بھیڑ میں تو ہوں مگر کسی کے درمیاں نہیں ہر ایک لہر خامشی سے پھر کنارہ کر گئی وہ موسمی ندی تھی زندگی کا کارواں نہیں عناصر دواں پہ ہے یہ کس نگاہ کا فسوں میں قید ہوں تو ہوں مگر قفس میں تیلیاں نہیں
jalaai gai havaa magar uThaa kahin dhuaan nahin
41 views





