
Abid Maroof Mughal
Abid Maroof Mughal
Abid Maroof Mughal
Ghazalغزل
ghar kaa huliya badal diyaa us ne
گھر کا حلیہ بدل دیا اس نے سارا نقشہ بدل دیا اس نے میں تو آوارہ ایک پنچھی تھا مجھ کو کتنا بدل دیا اس نے جو تھا رائج یہاں پہ صدیوں سے سارا قصہ بدل دیا اس نے اب اشاروں سے چال چلتے ہیں کھیل سارا بدل دیا اس نے سانپ میں نے بھی اک بنانا تھا اور سانچہ بدل دیا اس نے جیت کے جب قریب تھا عابدؔ ایک مہرہ بدل دیا اس نے
dil kaa sahraa khaali hai
دل کا صحرا خالی ہے آنکھ کا دریا خالی ہے رونا دھونا بچوں کا اپنا بٹوا خالی ہے جس پر ہم تم لڑتے تھے اب وہ جھولا خالی ہے تیری یاد میں بھیگا ہوں ورنہ چشمہ خالی ہے نگری نگری کیا بھٹکوں گھر تو میرا خالی ہے سب چہروں پر اک چہرہ اور وہ چہرہ خالی ہے ہنستے ہنستے عابدؔ آ دل کی کٹیا خالی ہے
chup kaa panchhi baiTh gayaa thaa peDon par
چپ کا پنچھی بیٹھ گیا تھا پیڑوں پر کس نے میرا نام لکھا تھا پیڑوں پر کیا جانے کیوں پنچھی سہمے سہمے تھے پتوں کا جب رقص بپا تھا پیڑوں پر کل تک ویراں شاخوں پر اک رونق تھی چڑیوں کا اک ڈار بسا تھا پیڑوں پر تیز ہوا نے تنکا تنکا کر ڈالا خوابوں کا اک دیس بسا تھا پیڑوں پر یہ بھی عابدؔ تیز ہوا کی سازش تھی گھونسلہ کوئی ٹوٹ گیا تھا پیڑوں پر
rang us kaa badalne vaalaa hai
رنگ اس کا بدلنے والا ہے نیا سورج نکلنے والا ہے موت کی اوٹ میں نہ ہو جاؤں پھر کوئی تیر چلنے والا ہے بھوک پیٹوں میں سرسرانے لگی سانپ انساں نگلنے والا ہے ساری خلقت ہے آج سہمی ہوئی کوئی لاوا ابلنے والا ہے کب یہ ممکن ہے سچ نہ کھل پائے کب یہ طوفان ٹلنے والا ہے اس کو اپنوں کی کیا خبر ہے کہ جو در پہ غیروں کے پلنے والا ہے اپنے ہی گھر کی فکر ہے سب کو شہر تو سارا جلنے والا ہے جس کے ہونٹوں پہ جھوٹ رہتا تھا آخرش سچ اگلنے والا ہے
meraa ilzaam puchh saktaa huun
میرا الزام پوچھ سکتا ہوں کیا سر عام پوچھ سکتا ہوں دھوپ کے جسم پر کوئی سایہ میں ترا کام پوچھ سکتا ہوں بے زبانی میں ہو زباں رکھتے اور اقدام پوچھ سکتا ہوں آپ سے دوستی کی خواہش ہے آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں حاکم وقت کیا فراغت میں اپنا انجام پوچھ سکتا ہوں میری تعظیم گر ضروری ہے رائے دشنام پوچھ سکتا ہوں تو نے عابدؔ سے دوستی کر لی دین اسلام پوچھ سکتا ہوں
kisi bhi chaal mein nahin aaya
کسی بھی چال میں نہیں آیا میں ترے جال میں نہیں آیا بس وہی سب سے خوب صورت تھا مصرعہ جو تال میں نہیں آیا تو مقدر میں آ گیا کیسے تو کبھی فال میں نہیں آیا مجھ کو دل میں بسائیے کہ میں لوٹ کے مال میں نہیں آیا اس کو انعام سے نوازا گیا جو کہ پنڈال میں نہیں آیا جس تغیر کی تھی امید بہت وہ نئے سال میں نہیں آیا یہ بھی مالک کا ہے کرم عابدؔ کہ میں جنجال میں نہیں آیا





