Abrar Hamid
Abrar Hamid
Abrar Hamid
Ghazalغزل
کیا کیا دھرے عجوبے ہیں شہر خیال میں بیتے خوشی سے دن تو کٹے شب ملال میں شاید کہ شب کی تہہ میں ہے سورج چھپا ہوا شب لگ رہی ہے کھوئی سی دن کے جمال میں کوئی کرے نہ غور تو اس کا قصور ہے اک اک جواب ورنہ ہے اک اک سوال میں کچھ ملتا جلتا عکس بجھاتی تو ہے مگر کب ہو بہ ہو سمایا ہے کوئی مثال میں
kyaa kyaa dhare ajube hain shahr-e-khayaal mein
41 views
اگر تو ساتھ چل پڑتا سفر آسان ہو جاتا خوشی سے عمر بھر جینے کا اک سامان ہو جاتا نہ جا کر کیوں جتاتا ہے جو جانا تھا چلا جاتا بہت ہوتا تو یہ ہوتا کہ میں حیران ہو جاتا جو میری سمت تو دو گام بھی ہنس کر چلا آتا میں تیرے اور تو میرے لیے ایمان ہو جاتا خوشی سے مجھ پہ کیا جانے گزر جانی تھی پھر حامدؔ گھڑی پل کو بھی تو مجھ پر جو کچھ قربان ہو جاتا
agar tu saath chal paDtaa safar aasaan ho jaataa
41 views
بھڑک اٹھا ہے الاؤ تمہاری فرقت کا نہیں ہے تم پہ اثر پھر بھی کیوں محبت کا معانی ہی تو نہیں کیا بدل گئے اس کے وفا کو نام جو دیتے ہو تم اذیت کا تمہی بتاؤ مرے ہو گے اور کیسے تم علاج عجز بھی نکلا نہیں رعونت کا کسی کو پا لیا تم نے تو چھوڑ کر مجھ کو کوئی علاج تو کر دو مری بھی حسرت کا
bhaDak uThaa hai alaav tumhaari furqat kaa
41 views
خوشی کے وقت بھی تجھ کو ملال کیسا ہے عروج حسن میں نقص کمال کیسا ہے جو ایک دوجے کو چاہیں تو کیوں نہ اپنا لیں یہ دل سے پوچھ کے بتلا خیال کیسا ہے نہیں جو آنے کے سب ان کی راہ تکتے ہیں یہ انتظار کا شہر وبال کیسا ہے ہے جس کے ساتھ جڑے اک ہزار اک خدشے وہ ہجر کیسا ہے حامدؔ وصال کیسا ہے
khushi ke vaqt bhi tujh ko malaal kaisaa hai
41 views
بپھری لہریں رات اندھیری اور بلا کی آندھی ہے گردابوں نے بھی گھیرا ہے ناؤ بھی ٹوٹی پھوٹی ہے کس نے رکھ ڈالے انگارے دل سی شاخ کی آنکھوں پر وہ کیوں بھولا یہ خوشیوں کے پھول کھلانے والی ہے جس کو تیرا ساتھ ملا وہ خوش نہ رہے کیوں پھولوں سا تیرا تو چھو لینا تک بھی ہجر کے روگ میں شافی ہے حد میں ہو تو پیار ہے اچھا ورنہ یہ بھی زحمت ہے جیسے اک چنگاری بھڑکے تو جنگل پر بھاری ہے
biphri lahrein raat andheri aur balaa ki aandhi hai
41 views
دئیے کی لو سے نہ جل جائے تیرگی شب کی کہ دن کی قدر کا باعث ہے ہر گھڑی شب کی جو دل خراش ہیں کچھ لمحے دن کے لمحوں میں تو دل فروز بھی ہیں ساعتیں کئی شب کی کہاں کے خواب مرے اور کہاں کی تعبیریں مجھے تو سونے نہ دے اب سحر گری شب کی جو وہ نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے پھر حامدؔ عبث ہیں چاند کے بن رونقیں سبھی شب کی
diye ki lau se na jal jaae tirgi shab ki
41 views





