SHAWORDS
Abul Husain Azad

Abul Husain Azad

Abul Husain Azad

Abul Husain Azad

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

vujud naghma-saraa hai hayaat raqs mein hai

وجود نغمہ سرا ہے حیات رقص میں ہے وہ سر خوشی ہے کہ سب کائنات رقص میں ہے چرا کے لایا ہوں چرخ کہن سے تابانی حضور عدل مری واردات رقص میں ہے وہ چل پڑا ہے سوئے حشر کوئی آوارہ ترازو وجد میں ہے پل صراط رقص میں ہے گناہ رسم کشی ہم پہ کیوں نہ ہو ثابت ثبوت ناچ رہے ہیں ثبات رقص میں ہے جھٹک دیا ہے یہ کس مہ جبیں نے زلفوں کو کہ تابشوں سے بیاباں کی رات رقص میں ہے طبیب نسخے میں آزادؔ لکھ رہا ہے جنوں خوشا وہ درد کہ جس سے نجات رقص میں ہے

غزل · Ghazal

be-rabt se lafzon ke hain be-rabt ma'aani

بے ربط سے لفظوں کے ہیں بے ربط معانی بالائے حد فہم ہے ہستی کی کہانی اب لوٹ کے دیکھوں تو دکھائی نہیں دیتی اس رشتۂ دیرینہ کی کوئی بھی نشانی صحرا میں پس شام نکل آئے نہ سورج لینے کو ہے انگڑائی وہ خوابیدہ جوانی دل میں تو سمندر ہیں بہت کرب کے لیکن آنکھوں کو میسر نہیں دو بوند بھی پانی بہتے ہوئے دریا پہ نہ کر تکیہ کہ اس نے جلتے ہوئے خیموں کی نہیں آگ بجھانی اے حسن سماعت ابھی فرصت نہیں ورنہ اک طرفہ حکایت تھی مجھے تجھ کو سنانی مجھ کو بھی ہوس رستہ بدلنے کی تھی لیکن قدموں نے کسی طور مری بات نہ مانی پھر دیکھیں گے کب سبز زمانہ مرے موسم پھر لوٹ کے کب آئے گی ساعت وہ سہانی اک لمحۂ آزاد کی تخلیق ہے الفت نافذ ہے کہاں اس پہ کوئی قید زمانی

غزل · Ghazal

ai khush-qadam gavaaraa ye zahmat agar karo

اے خوش قدم گوارا یہ زحمت اگر کرو کچھ دن حریم جاں میں ہمارے بسر کرو کچھ ناتراش سنگ ہیں میرے بھی ہاتھ میں گردوں نشینو مجھ میں بھی پیدا ہنر کرو آنکھوں کے آسماں میں ہے خوابوں کی کہکشاں اس کہکشاں کی سیر بہ رنگ دگر کرو اک یہ بھی رسم ہے کہ تمنا کی راہ میں منزل کا کوئی قصد نہ ہو اور سفر کرو میں نے متاع زیست گنوائی سو دل ربا اب تم بھی انتظار مرا عمر بھر کرو روئیدگی سے خالی پڑی ہے زمین دل اے چشم ابر خیز اسے تر بہ تر کرو رنگ حنائی پھیکا اگر پڑ گیا تو کیا پھر خون آرزو سے اسے تازہ تر کرو

غزل · Ghazal

bichhDaa to lafz-e-dard ki tafsir kar gayaa

بچھڑا تو لفظ درد کی تفسیر کر گیا نافذ مرے وجود پہ تعزیر کر گیا آنکھیں سنہری دیکھ کے میں سوچنے لگا یہ کون کہکشاؤں کو تصویر کر گیا وہ بستر وصال سے اٹھ کر چلا گیا اور فرقتوں کے دکھ مری تقدیر کر گیا آنکھوں سے ساری نیند کی لذت چلی گئی ہر خواب کو وہ حسرت تعبیر کر گیا الفت کا سانحہ جو فقط دل کا راز تھا وہ نازنین اس کی بھی تشہیر کر گیا آزادؔ اب نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی اک شخص میری روح کی تطہیر کر گیا

غزل · Ghazal

charaagh isi liye apne bujhaa ke chalte hain

چراغ اسی لیے اپنے بجھا کے چلتے ہیں کہ حکم سارے یہاں پر ہوا کے چلتے ہیں ہم ایسے شہر ہلاکت میں بس رہے ہیں جہاں مسیح وقت صلیبیں اٹھا کے چلتے ہیں اب ایسے اہل ہنر سے کسے عقیدت ہو جو دل کے داغ جبیں پر سجا کے چلتے ہیں ہمارے خواب کسی کربلا سے کم تو نہیں سو ہم بھی ریت پہ خیمے جلا کے جلتے ہیں کبھی ہم ان کی بصارت کا نور تھے اے دل جو آج ہم سے نگاہیں چرا کے چلتے ہیں اداسیوں کے سفر کچھ نشان منزل دے کہ اب تو اپنے قدم لڑکھڑا کے چلتے ہیں مزار اہل تمنا ہے وہ جگہ آزادؔ جہاں سے قافلے آنسو بہا کے چلتے ہیں

غزل · Ghazal

kaavish-e-'ishq pe in'aam agar ho jaae

کاوش عشق پہ انعام اگر ہو جائے سامنا تجھ سے سر عام اگر ہو جائے ہر گھڑی سانس کے چلنے سے ہے سینے میں دکھن اس میں کچھ وقفۂ آرام اگر ہو جائے دل کی بے وجہ سی رنجش کا مداوا تو نہیں پھر بھی ملنے کی کوئی شام اگر ہو جائے جس نے مرجھا کے بکھرنا ہے نمو سے پہلے اس کی خوشبو کا کوئی نام اگر ہو جائے کھل اٹھیں قحط زدہ آنکھ میں اشکوں کے کنول موسم صبر کا اتمام اگر ہو جائے پھر کسی حرف نصیحت کی کہاں ہے حاجت روح پہ کرب کا الہام اگر ہو جائے اب کہانی میں سنانے کو بچا ہی کیا ہے بہتری اس میں ہے انجام اگر ہو جائے

Similar Poets