SHAWORDS
Abul Khair Nashtar

Abul Khair Nashtar

Abul Khair Nashtar

Abul Khair Nashtar

poet
17Ghazal

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

وہ عہد مخلصانہ اب کہاں ہے لڑکپن کا زمانہ اب کہاں ہے وہی ہے چاند تارے بھی وہی ہیں محبت والہانہ اب کہاں ہے سراب زندگی آنکھوں میں روشن نگاہ طائرانہ اب کہاں ہے عیاں ظلمت کے پہرے بستی بستی وہ عزم فاتحانہ اب کہاں ہے تجسس میں ہماری عمر گزری مہاجر کا ٹھکانہ اب کہاں ہے سند کا زعم ذہن و دل میں لیکن شعور عالمانہ اب کہاں ہے کوئی غالبؔ کوئی اقبالؔ نشترؔ وہ منصب شاعرانہ اب کہاں ہے

vo ahd-e-mukhlisaana ab kahaan hai

41 views

غزل · Ghazal

نئے معنی نئے اسلوب لکھنا غزل کو چاند کا محبوب لکھنا شعور زندگی عنقا ہے لیکن سفر کے ذائقے مرغوب لکھنا ہماری فکر پر کہرے سجانا متاع ذہن کو مصلوب لکھنا جہاں ظلمت کے پہرے ہر قدم ہوں ہمارے شہر سے منسوب لکھنا پلانا زہر پیمانے بدل کر درون میکدہ مشروب لکھنا تم اپنے رو بہ رو آئینہ رکھ کے کسی ہمسائے کو مجذوب لکھنا ترا لہجہ ہے نشترؔ احتجاجی پروں پر تتلیوں کے خوب لکھنا

nae maani nae uslub likhnaa

41 views

غزل · Ghazal

ہمارے قلب کے آنگن میں تو نہیں رہتا سراب حسن تری جستجو نہیں رہتا کچھ ایسا زخم دیا ارتقائی سورج نے رگوں میں دوڑنے والا لہو نہیں رہتا یہ تجربات کا موسم عجیب موسم ہے کہیں بھی شاخ شجر پر نمو نہیں رہتا نہ جانے کون سی وحشت ہے اس کی آنکھوں میں وہ آئنہ ہے مگر روبرو نہیں رہتا گرج کے ساتھ برسنا گھٹا کی فطرت ہے سمندروں میں کبھی ہاؤ ہو نہیں رہتا وہ اجنبی تھا سر راہ لٹ گیا نشترؔ چراغ راہ سفر کو بہ کو نہیں رہتا

hamaare qalb ke aangan mein tu nahin rahtaa

41 views

غزل · Ghazal

آئینے سے آنکھ لڑی ہے ارمانوں پہ اوس پڑی ہے گھر آنگن ظلمت کے پہرے دروازے پر دھوپ جڑی ہے موسم موسم کرب کا موسم ڈالی ڈالی آنچ کڑی ہے اپنا چہرہ ڈھونڈ رہا ہوں آئینے پر دھول پڑی ہے صحرا صحرا ڈھونڈنے والو دریا دریا پیاس کھڑی ہے لہجہ لہجہ زہر میں ڈوبا چھوٹا منہ اور بات بڑی ہے سچائی کے پاؤں میں نشترؔ دہشت کی زنجیر پڑی ہے

aaine se aankh laDi hai

40 views

غزل · Ghazal

خوف ظلمت سے لرزتی ہے فضا اب کے برس زہر میں ڈوب گئی باد صبا اب کے برس چین سڑکوں پہ میسر نہ سکوں ہے گھر میں اس طرح پھیلی ہے دہشت کی وبا اب کے برس دل کی آنکھوں نے حقائق سے چرا لیں نظریں اوڑھ لی فکر نے برفیلی ردا اب کے برس پاؤں میں ڈال دی زنجیر ہوائے شب نے پھر بھی آزاد ہے موسم کی انا اب کے برس میں بھی گزرا ہوں جنوں خیز مراحل سے مگر پھاڑ کر پھینک دی وحشت کی قبا اب کے برس کیسے آئے گا یہاں کوئی پرندہ نشترؔ کرب انگیز ہے موجوں کی صدا اب کے برس

khauf-e-zulmat se larazti hai fazaa ab ke baras

40 views

غزل · Ghazal

خدا کریم ہے اتنا کرم ہی فرمائے میں اس کو بھولنا چاہوں وہ مجھ کو یاد آئے فضا میں نور ہواؤں میں اس کی خوشبو ہے ٹھہر اے وقت کہ جان بہار آ جائے وفا خلوص و محبت کی یہ امانت ہے غم حیات کی سرخی جبیں پہ لہرائے تمہاری چاہ طرب خیز وادیوں کا سفر ہمارے ساتھ ہیں محرومیوں کے سرمائے گرا کے برق جلایا ہے آشیاں دل کا ترے لبوں پہ تبسم کچھ ایسے لہرائے کہاں مثال ہے روشن جمال کی نشترؔ بدن کو چھو کے جسے چاندنی بھی شرمائے

khudaa karim hai itnaa karam hi farmaae

40 views

Similar Poets