Adeeb Damohi
Adeeb Damohi
Adeeb Damohi
Ghazalغزل
ناز رستوں کے اٹھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں میں تری بزم میں آتے ہوئے تھک جاتا ہوں پھر نئے غم کی ضرورت ہے مری غزلوں کو روز کی بات بتاتے ہوئے تھک جاتا ہوں زندگی تجھ سے بھی اب روٹھنے کو دل چاہے بارہا تجھ کو مناتے ہوئے تھک جاتا ہوں لب کشائی تو کرو تم بھی مرے حق میں کبھی میں تمہارا ہوں بتاتے ہوئے تھک جاتا ہوں قرض کم ظرف سے لینے میں ہے نقصان بہت اس کا احسان چکاتے ہوئے تھک جاتا ہوں علم ہوتا ہے حقیقت میں جہالت کا جواب میں تو اسباق پڑھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں دل کا وہ میل مگر صاف نہیں ہوتا ادیبؔ ہاتھ دشمن سے ملاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
naaz raston ke uThaate hue thak jaataa huun
41 views
جو بھی کردار سے لکھی جائے زندگی کیوں نہ وہ پڑھی جائے دفتر غم میں آ کے بیٹھا ہوں آج کوئی غزل کہی جائے ذہن کا بوجھ کچھ تو ہلکا ہو گرد یادوں کی صاف کی جائے زندگی کے حساب میں گم ہوں حل پہیلی یہ کیسے کی جائے چند لمحے ہی کھینچ لو اس سے زندگی شام سی ڈھلی جائے لب کے کھلتے ہی کان کھل جائیں ایسے لہجے میں بات کی جائے بے تحاشہ ہے بھیڑ خود مجھ میں اب جگہ اور کس کو دی جائے دل کا شیشہ جو توڑ کر رکھ دے بات وہ کیوں کہی سنی جائے جس کو دیکھو اس انتظار میں ہے شور اٹھے تو خامشی جائے صرف اردو زبان ہے جو ادیبؔ رس محبت کا گھولتی جائے
jo bhi kirdaar se likhi jaae
41 views
چاند سورج نہ سہی کوئی ستارا ہوتا رہنمائی کے لیے کوئی ہمارا ہوتا ہم نے کردار جو اندر سے سنوارا ہوتا پھر تو باہر بھی بہت خوب نظارا ہوتا آپ جھوٹا ہی سہی رشتہ بنائے رکھتے ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہوتا اس نے بھیجا ہے محبت کے لیے دنیا میں کاش اس بات کو سینوں میں اتارا ہوتا جس میں تعلیم محبت کی ملا کرتی ہو کاش ایسا بھی کہیں کوئی ادارہ ہوتا ہر مصیبت سے نکل سکتا ہوں تدبیروں سے کاش تقدیر سے بچنے کا بھی چارہ ہوتا سب کی آنکھوں میں سما جاتی وہ تصویر ادیبؔ چاند کے عکس میں جو عکس تمہارا ہوتا
chaand suraj na sahi koi sitaaraa hotaa
41 views
اپنے تخیلات کا نقشہ نکال کے غزلیں کہیں ہیں خون پسینہ نکال کے گھر کو کیا تھا صاف کسی کا مٹا کے گھر افسوس کر رہا ہوں میں جالا نکال کے تم کو قلندری کی ہے دل میں جو آرزو رکھنی پڑے گی دل سے یہ دنیا نکال کے اب اس کی اصلیت ہے زمانہ کے سامنے چہرے سے اس نے رکھ دیا چہرہ نکال کے موجوں سے لڑنا اس کی تھی عادت اسی لئے وہ آ گیا کنارے پے رستہ نکال کے دل بجھتے بجھتے میرا اچانک چمک اٹھا یہ کون کھینچ لایا اجالا نکال کے آنکھیں تریرتے ہوئے وہ دیکھتے ہیں اب رکھا تھا جن کو اپنا کلیجہ نکال کے پوچھو نہ بے ضمیروں سے کیسے بچے ادیبؔ لے آئے اپنے آپ کو زندہ نکال کے
apne takhayyulaat kaa naqsha nikaal ke
41 views
میں نہیں بیٹھ کے اشکوں کو بہانے والا میں ہوں تدبیر سے تقدیر بنانے والا ایسے انجام سے ہم سب کو سبق لینا ہے جل گیا آگ میں خود آگ لگانے والا زخم کھا کر بھی پرندہ نہ رکا اڑتا رہا ہاتھ ملتا ہی رہا تیر چلانے والا اس کے احسان سے اللہ بچائے مجھ کو کتنا کم ظرف ہے احسان بتانے والا ٹوٹنا لفظ ہی مجھ پر ہے قیامت جیسا میں ہوں مٹی کے کھلونوں کو بنانے والا کیسے جیتا ہے ذرا سوچ کے دیکھو تو ادیبؔ اپنے احساس کو سینہ میں دبانے والا
main nahin baiTh ke ashkon ko bahaane vaalaa
41 views
سرخ آنکھیں ہیں زرد منظر ہے زندگی ریت کا سمندر ہے صورت حال پوچھ لو ہم سے دل ہے غمگین آنکھ بھی تر ہے کیسے منزل نہ ہو قریب مرے جب مرا ہی شعور رہبر ہے میں یہ خود بھی نہیں سمجھ پایا قرض کس کی نظر کا مجھ پر ہے میں اندھیروں میں کھو نہیں سکتا عشق سے دل مرا منور ہے روبرو آئنے کے مت جانا ہاتھ میں آئنے کے پتھر ہے ایک طوفاں ہے اس کی خاموشی زندگی اس کی اک سمندر ہے رب سلامت رکھے خودی میری یہ امارت بھی آج جرجر ہے جس کا ہوتا نہیں دلوں میں قیام آدمی وہ ادیبؔ بے گھر ہے
surkh aankhein hain zard manzar hai
41 views





