
Aditya Pant Naaqid
Aditya Pant Naaqid
Aditya Pant Naaqid
Ghazalغزل
girtaa rahaa main raah mein lekin sambhal gayaa
گرتا رہا میں راہ میں لیکن سنبھل گیا میں آج کس مقام کی جانب نکل گیا سوچا کیا تھا راہ یہ آسان ہے مگر پہلے قدم پہ پاؤں مرا کیوں پھسل گیا ادنیٰ سا اک فریب تھا بدلا جو یہ لباس آفت تو تب پڑی کہ میں جب خود بدل گیا آنکھیں تھی شرمسار کہیں چین بھی نہیں اس کے مگر خیال سے یہ دل بہل گیا ہو گر خطا سزا کا مقرر ہے ایک دن ناقدؔ زہے نصیب کہ وہ وقت ٹل گیا
sadaaqat ki yahaan izzat nahin hai
صداقت کی یہاں عزت نہیں ہے وفاداری کی کچھ قیمت نہیں ہے جہاں سے وہ گیا تھا میں وہیں ہوں مگر جینے میں وہ لذت نہیں ہے زباں پہ تلخیاں آنکھوں میں غصہ مگر کردار میں خست نہیں ہے وقار اپنا نہیں کوتاہ لیکن ترے رتبے سی بھی قامت نہیں ہے رہے مٹی کی خوشبو یاد ہر دم تو سانسیں روکتی غربت نہیں ہے جہالت میں پلی دنیا میں شاید تعقل سے بڑی نعمت نہیں ہے چلا چل سر اٹھا کر یار ناقدؔ لگی اب تک کوئی تہمت نہیں ہے
aasuda dil mein uThne lagaa iztiraab kyaa
آسودہ دل میں اٹھنے لگا اضطراب کیا اس زندگی میں ہو گیا شامل شتاب کیا قاصد کے ہاتھ اپنا یہ پیغام سونپ کر پھر سوچتے رہو کہ اب آئے جواب کیا اس کا ہے فضل ذرہ جو چمکے بہ سان زر ہے ورنہ کیا یہ ماہ بھی اور آفتاب کیا ہے نیند سے کوئی بھی تعلق نہیں مرا ہر دم یہ چشم وا میں ابھرتا ہے خواب کیا کیا فتح یاب ہو سکا ہے کوئی تیغ سے پھر بھی ہے درمیان ممالک ضراب کیا ہوگا جو اعتبار تأمل رہے گا کیا کامل سپردگی ہو تو شرم و حجاب کیا ممکن کہاں ہو ہاتھ میں ناقدؔ ترے قرآں کافر بتا ہے سامنے تیرے کتاب کیا
dekhein ab kyaa dil-jalon se bol bole jaaeinge
دیکھیں اب کیا دل جلوں سے بول بولے جائیں گے لاگ ہی سے پھوٹ کیا دل کے پھپھولے جائیں گے ہے یہاں پیمانہ مال و نقد ہی لیکن وہاں ظرف کی میزان پر ہی لوگ تولے جائیں گے مشعل ماضی دکھا سکتی ہے مستقبل کی راہ ہے یہ کنجی جس سے سارے قفل کھولے جائیں گے یاد رکھنے کے لئے لمحے گزشتہ وقت کے اب کتاب ماضی کے پنے ٹٹولے جائیں گے توبہ توبہ کس قدر منہ سے ٹپکتی ہے شکر اس زباں سے میٹھے میٹھے زہر گھولے جائیں گے روح کی بوسیدگی کو دفن کرنے کے لئے دیکھئے گا بدلے کس کس تن کے چولے جائیں گے ہے سراہا خوب یہ پیوند کاری کا ہنر رشتہ در رشتہ سبھی اب پیچ کھولے جائیں گے پینگ بڑھتی جائے امرائی میں جیوں جیوں دن چڑھے شام ہوتے تک اتارے سب ہنڈولے جائیں گے لیجئے دیوان ناقدؔ آپ ہی کے نام ہے ہم کہاں ان بے تکے اشعار کو لے جائیں گے
hai kyaa khizaan mein mumkin sahraa mein baagh nikle
ہے کیا خزاں میں ممکن صحرا میں باغ نکلے ظلمت کو جو مٹائے ایسا چراغ نکلے شور سفیر بلبل سے گونجتا تھا کل تک کیوں آج میرے گھر میں رونے کو زاغ نکلے داغ قمر سے آخر جب آشنا ہوا میں جتنے رقیب پائے ان میں نہ داغ نکلے ڈرتا تھا میں نہ آئے وقت فراق مجھ پر کچھ وصل سے ترے اب حول دماغ نکلے ہو جستجو میں جس کی ہے وہ مزار کیسا کیا اپنی قبر کا تم لینے سراغ نکلے میں تھک چکا ہوں ناقدؔ ترغیب زندگی سے چاہوں افق سے آخر روز فراغ نکلے
apnon ki TuTti hui tasvir dekh li
اپنوں کی ٹوٹتی ہوئی تصویر دیکھ لی اغیار کی بھی چاہ میں تاثیر دیکھ لی آیا نہیں ہے ہوش نگاہوں کو اب تلک بکھرے ہوئے جو خوابوں کی تعبیر دیکھ لی کیا مانگتا میں تیری پشیمانی کا ثبوت آنکھوں سے بہتے اشکوں میں تعزیر دیکھ لی اب تک دکھے پرندے اسیر قفس مگر صیاد کے بھی ہاتھ میں زنجیر دیکھ لی تھا جس کے پیچ و خم پہ یہ سارا جہاں فدا لو ہم نے بھی وہ زلف گرہ گیر دیکھ لی ناقدؔ ہے بے زبان کھڑا در پہ نامہ بر چہرے پہ اس کے آپ کی تحریر دیکھ لی





