SHAWORDS
Afqar Mohani

Afqar Mohani

Afqar Mohani

Afqar Mohani

poet
1Sher
1Shayari
44Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 44
غزل · Ghazal

vahshat mein koi kaar-e-numaayaan na kar sake

وحشت میں کوئی کار نمایاں نہ کر سکے دامن کو جیب جیب کو داماں نہ کر سکے درد دروں کا وہ بھی تو درماں نہ کر سکے دشواریٔ حیات کو آساں نہ کر سکے تر خون دل سے ناوک جاناں نہ کر سکے ہم اتنی بھی تو خاطر مہماں نہ کر سکے کچھ ایسے جلد ختم ہوئے زندگی کے دن ہم اعتبار عمر گریزاں نہ کر سکے دریا میں غرق دیکھنے والے بھی ہو گئے مجھ کو مگر حوالۂ طوفاں نہ کر سکے جلووں کو دیکھتی رہی میری نگاہ شوق کچھ بھی حریم ناز کے درباں نہ کر سکے رہتے ہوئے قفس میں زمانہ گزر گئے ترک خیال سیر گلستاں نہ کر سکے سو حشر انتظار میں ہم پر گزر گئے اور آئی ایک حشر کا ساماں نہ کر سکے وہ سخت جان تھے کہ زمانے کے حادثات شیرازۂ حیات پریشاں نہ کر سکے ہم ایسے جا کے بے خود احساس ہو گئے اندازۂ کشاکش زنداں نہ کر سکے بدنام کر دیا مجھے افقرؔ زمانے میں اخفائے راز دیدۂ گریاں نہ کر سکے

غزل · Ghazal

mohabbat mein khirad ki rahbari dekhi nahin jaati

محبت میں خرد کی رہبری دیکھی نہیں جاتی یہ توہین مذاق عاشقی دیکھی نہیں جاتی ہر اک تصویر کی جلوہ‌ گری دیکھی نہیں جاتی وہ صورت دیکھ کر پھر دوسری دیکھی نہیں جاتی بہار اچھی طرح گلشن میں آئی بھی نہیں لیکن اسیروں سے نظر صیاد کی دیکھی نہیں جاتی دل مضطر مرا پروردۂ آغوش طوفاں ہے خوشی یہ موج ساحل پر کبھی دیکھی نہیں جاتی مری ہستی کا پردہ بھی مری نظروں سے اٹھ جائے کہ وقت دید جاناں یہ دوئی دیکھی نہیں جاتی اسے پیتے ہیں آنکھیں بند کرکے بادہ کش زاہد نگاہوں سے یہ شیشہ کی پری دیکھی نہیں جاتی نگاہ شوق کیا دیکھے گی جلوہ حسن کامل کا جب ادنیٰ سی تجلی طور کی دیکھی نہیں جاتی نظر جتنی تھی صرف دید جاناں ہو گئی افقرؔ کوئی شے اب جہان حسن کی دیکھی نہیں جاتی

غزل · Ghazal

ai dard dil mein rah kar dil hi kaa raaz ho jaa

اے درد دل میں رہ کر دل ہی کا راز ہو جا بیمار غم کا اپنے خود چارہ ساز ہو جا اے جذب دل سراپا سوز و گداز ہو جا دنیائے رنگ و بو میں دنیائے راز ہو جا ہاں ہاں بڑھا دے مدت پابندیٔ جنوں کی زلف دراز جاناں عمر دراز ہو جا ہر ذرۂ حقیقت یہ دے رہا صدا ہے پہلے رہ طلب میں خاک مجاز ہو جا سر نامۂ عدم ہے عنوان زندگانی اے امتیاز ہستی تفسیر راز ہو جا اے بے خبر گزر جا ذوق نظر کی حد سے جلووں میں اس کے گھر کر جلوہ طراز ہو جا اے بندۂ طریقت آداب زندگی سن محو سجود ہو کر جان نماز ہو جا خرقہ شراب سے تر دستار مے سے رنگیں اے شیخ پاک دامن یوں پاکباز ہو جا تو راز داں ہے دل کا دل راز دار الفت یا سرفراز کر دے یا سرفراز ہو جا تو رونق حرم ہے یا بت کدہ کی زینت خود امتیاز بن کر اک امتیاز ہو جا جانا ہے جب مقرر دار فنا سے افقرؔ راہ وفا میں مٹ کر خاک حجاز ہو جا

غزل · Ghazal

shab-e-firaaq hamaaraa vo nim-jaan honaa

شب فراق ہمارا وہ نیم جاں ہونا اجل کا آپ ہی گھر میں وہ مہماں ہونا خفا نہ سن کے مرا حال مہرباں ہونا کہ اس بیان کو اک دن ہے داستاں ہونا دیار حسن کی سرگرمیاں معاذ اللہ ہر اک قدم پہ محبت کا امتحاں ہونا کوئی ستم ہو یہیں سے شروع ہوتا ہے غضب ہے کوچۂ جاناں کا آسماں ہونا اجل سے پہلے صبا لے اڑی سر منزل کہاں پہ آیا ہے کام اپنا ناتواں ہونا اٹھا وہ درد کلیجہ میں وہ گرے آنسو نہیں ہے کھیل محبت کا رازداں ہونا نگاہ قہر کبھی اور کبھی کرم کی نظر انہیں اداؤں کا مل جل کے داستاں ہونا وہ کیا کرے نہ مٹے گر تری محبت میں لکھا ہو جس کے مقدر میں بے نشاں ہونا ابھی نہ شاد ہو تکمیل عشق پر افقرؔ ابھی ہے ترک محبت کا امتحاں ہونا

غزل · Ghazal

mahshar kaa e'tibaar huaa hai kabhi kabhi

محشر کا اعتبار ہوا ہے کبھی کبھی بے پردہ حسن یار ہوا ہے کبھی کبھی رقصاں جمال یار ہوا ہے کبھی کبھی پردہ میں انتشار ہوا ہے کبھی کبھی پہنچی ہے خاک عاشق برباد عرش پر اونچا اگر غبار ہوا ہے کبھی کبھی زاہد طواف کرتے ہیں اس آستاں کا ہم کعبہ میں جو شمار ہوا ہے کبھی کبھی پیماں شکن کے وعدہ کے ہم راہ اے اجل تیرا بھی انتظار ہوا ہے کبھی کبھی اک سجدہ وہ بھی بے خودیٔ اضطراب میں اس آستاں پہ بار ہوا ہے کبھی کبھی دامان تنگ و جوش بہاراں کو دیکھ کر اندازۂ بہار ہوا ہے کبھی کبھی وہ خود ہی راز بن گیا دنیا کے واسطے جو اس کا رازدار ہوا ہے کبھی کبھی جیسے وہ آئے بیٹھے بھی اٹھ کر چلے گئے اس درجہ اعتبار ہوا ہے کبھی کبھی وحدت پرستیوں سے بھی افقرؔ خدا گواہ برہم مزاج یار ہوا ہے کبھی کبھی

غزل · Ghazal

taayyun ki hadon mein jalva-saamaan ho nahin saktaa

تعین کی حدوں میں جلوہ ساماں ہو نہیں سکتا وہ حسن کل محیط کفر و ایماں ہو نہیں سکتا جو پامال خرام ناز جاناں ہو نہیں سکتا وہ مدفن حاصل گور غریباں ہو نہیں سکتا اسے رہنے دے یوں ہی بخیہ گر تو اس کی حالت پر رفو جس کا ہو وہ میرا گریباں ہو نہیں سکتا ملے گی داد محشر میں وہ ظالم مل نہیں سکتا کہیں بھی میرے درد دل کا درماں ہو نہیں سکتا یہ قید لا مکاں کیسی یہ تخصیص مکاں کیا ہے ترا جلوہ محیط حد امکاں ہو نہیں سکتا نہیں جب آرزو کوئی تو خون آرزو کیسا دل بے مدعا ناکام ارماں ہو نہیں سکتا بھنور میں جتنا ڈوبے گا یہ اتنا اور ابھرے گا محبت کا سفینہ غرق طوفاں ہو نہیں سکتا اسے کیا آزمائے گی تجلی برق ایمن کی جو ان کا دیکھنے والا ہے حیراں ہو نہیں سکتا وہ اشک غم نہ سرخی جس میں خون دل کی شامل ہو مرے افسانۂ الفت کا عنواں ہو نہیں سکتا طبیعت ہی بدل دی لذت آزار پیہم نے وہ چاہیں بھی تو میرے غم کا درماں ہو نہیں سکتا مری ہستی حجاب روئے جاناں کیوں ہو اے افقرؔ مری ہستی کا پردہ روئے جاناں ہو نہیں سکتا

Similar Poets