SHAWORDS
Aftab Alam Aas

Aftab Alam Aas

Aftab Alam Aas

Aftab Alam Aas

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

ایسی آواز کہ ہر لفظ میں ہی واؤ ملے گویا بہتے ہوئے پانی میں بھی ٹھہراؤ ملے میری چاہت ہے کوئی پھول اسے چبھ جائے میری چاہت ہے کہ کانٹے کو کوئی گھاؤ ملے کوئی خوشحال ملے اور اسے لوٹ لوں میں تاک میں بیٹھا ہوں ٹاپو پہ بس اک ناؤ ملے میری فصلوں سے کھدیڑی گئی چڑیوں کی دعا اس کے بدلے میں اسے اولوں کا پتھراؤ ملے رب کی رحمت نے بچا رکھا ہے ہم کو ورنہ نار دوزخ کی طلب ہے اسے بھڑکاؤ ملے آسؔ کا نام بچھڑنے کی علامت ہے دوست آ جو مل جائے لگاؤ میں تو الگاؤ ملے

aisi aavaaz ki har lafz mein hi wow mile

41 views

غزل · Ghazal

پہلے کچھ روز کسی طرح جدائی کاٹی ریل نے دونوں بدن کی پھر اداسی کاٹی تم زباں کاٹو ہماری ہے اجازت جاناں پر خبردار اگر بات ہماری کاٹی عشق نے پہلے ہمارا بھی بہت دھیان رکھا ہم نے بھی پہلے پہل خوب ملائی کاٹی اس نے بھی روتے ہوئے فون ہمارا کاٹا ہم نے بھی اپنی محبت کی کلائی کاٹی کیا پتہ کتنے عدد پیٹ کٹیں گے اس میں کہنے کو ایک ہی لیبر کی دہاڑی کاٹی اتنا ہمدرد کنویں تک مجھے آنے بھی دیا اتنا ظالم کہ مرے آتے ہی رسی کاٹی

pahle kuchh roz kisi tarh judaai kaaTi

41 views

غزل · Ghazal

دل باغ کی عزیز کلی چھین لی گئی وہ لازمی تھی اور وہی چھین لی گئی پہلے ہماری آنکھوں کی چھینی گئی چمک پھر دھیرے دھیرے کر کے نمی چھین لی گئی میں چاہتا تھا مجھ کو خدا کر دے سب عطا سب کچھ عطا ہوا تو کمی چھین لی گئی وعدہ ہے ٹھیک ویسے ہی چھینوں گا سب کے غم جیسے کہ مجھ سے میری خوشی چھین لی گئی سب سیپیاں نکال کے دریا کے پیٹ سے دریا سے اس کی دریا دلی چھین لی گئی

dil-baagh ki 'aziz kali chhin li gai

41 views

غزل · Ghazal

ہمارے نفس سے چلتا ہے اس حیات کا کام اور اس حیات سے چلتا ہے کائنات کا کام میں آج خوش ہوں تو پھر کیوں ہی اشک ضائع کروں کہ تنگ حالی میں پڑتا ہے زیورات کا کام مری رگوں نے ہی تھاما ہوا ہے میرا بدن سو ان کا کام وہی ہے جو جنگلات کا کام یہیں سے جنت و دوزخ کے فیصلے ہوں گے یہیں کے کام سے ہوگا پل صراط کا کام ہماری ذات کے کاموں میں کام کرنا ہے وہ کام ہوگا نہ ہوگا خدا کی ذات کا کام کسی بھی بھوکے کو روٹی نہ پھینک کر دیجے یہ نیک کام ہے اس کو بنائیں ہاتھ کا کام جو رات دیر سے سوئیں تو دن میں نیند آئے ہمارے دن میں خلل ڈالتا ہے رات کا کام

hamaare nafs se chaltaa hai is hayaat kaa kaam

41 views

غزل · Ghazal

غیر ممکن کو بھی امکان میں رکھ سکتے ہیں ان کی دتکار کو ہم شان میں رکھ سکتے ہیں پھول ہی پھول ہیں چاروں طرف اس کمرے میں کیکٹس بھی کسی گلدان میں رکھ سکتے ہیں بات جو آپ سے دل میں نہیں رکھی جاتی ہم سے کہہ دیجیے ہم کان میں رکھ سکتے ہیں آپ کو پا نہیں سکتے ہمیں معلوم ہے سو آپ کو دل میں نہیں دھیان میں رکھ سکتے ہیں فکر معیار کی اتنی ہے کہ خارج کرے آسؔ ایسے اشعار جو دیوان میں رکھ سکتے ہیں

ghair-mumkin ko bhi imkaan mein rakh sakte hain

40 views

غزل · Ghazal

تیرے خطوط کے پرزے شمار کرتے ہوئے پھپھک کے رویا میں تحفے شمار کرتے ہوئے میں چاہتا ہوں مرے گھر کے پاس جنگل ہو میں دن گزاروں پرندے شمار کرتے ہوئے بس اتنا پڑھنا ہے مجھ کو کہ پاس ہو جاؤں کتاب پڑھتا ہوں صفحے شمار کرتے ہوئے میں آج ہار کر آیا پھر ایک آہ بھری پرانی جیت کے تمغے شمار کرتے ہوئے ہماری گنتی میں بس والدین آتے ہیں جہان بھر میں سے اپنے شمار کرتے ہوئے

tere khutut ke purze shumaar karte hue

40 views

Similar Poets