
Aftab Ranjha
Aftab Ranjha
Aftab Ranjha
Ghazalغزل
رات آتی ہے تو بازار سے لگ جاتے ہیں درد ہی درد کے انبار سے لگ جاتے ہیں چلتے ہی رہتے ہیں ہم پر تو قضا کے نشتر ہم بھی روتے ہوئے دیوار سے لگ جاتے ہیں ایسے تنہائی رگ جاں سے لپٹ کر روئے جیسے خلوت میں گلے یار سے لگ جاتے ہیں عالم شوق کناروں کی کسے فرصت ہے یہ سفینے کبھی منجھدار سے لگ جاتے ہیں زندگی تو بھی تماشے کے سوا کچھ بھی نہیں دیکھتے دیکھتے آزار سے لگ جاتے ہیں چاندنی رات میں بیٹھے ہوئے تنہا برہمؔ گمشدہ یادوں کے دربار سے لگ جاتے ہیں
raat aati hai to baazaar se lag jaate hain
41 views
جو ہو نصیب تو گرداب سے نکل جاؤں میں اپنے حلقۂ احباب سے نکل جاؤں نجانے گردش ایام کیوں نہیں رکتی میں گہری نیند کے اس خواب سے نکل جاؤں میں چھپ کے بیٹھا ہوں تنہائی کے سمندر میں صدا جو آئے تہہ آب سے نکل جاؤں مری طبیعت مضطر یہاں نہ ٹھہرے گی اے کاش گوشۂ سیماب سے نکل جاؤں اگر وہ چاہے تو اک پل رکوں نہیں برہمؔ میں اس کے شہر کے ہر باب سے نکل جاؤں
jo ho nasib to girdaab se nikal jaaun
41 views
نظریں جو اس طناز کی ہم پر ٹھہر گئیں کلیاں ہمارے ہاتھ سے دو چار گر گئیں مرنے کے بعد اور بھی کچھ سانحے ہوئے سڑکیں مری عزیز کتابوں سے بھر گئیں کچھ گر پڑے زمین پہ کچھ نیم جاں ہوئے آنکھیں ہمارے یار کی کیا کیا نہ کر گئیں لائی ہے ایسے موڑ پہ یہ زندگی ہمیں جانے ہزاروں خواہشیں راہوں میں مر گئیں اس شوخ دل فریب کی آنکھیں بھی ہیں فریب گھائل دلوں میں ڈوب کے کس کس کے گھر گئیں جیسے ہی پائیں باغ میں اس نے کیا خرام بے چین تتلیاں بھی ادھر سے ادھر گئیں برہمؔ رموز عشق نہ ہم پر کبھی کھلے کیا کیا قیامتیں تھیں جو دل پر گزر گئیں
nazrein jo us tannaaz ki ham par Thahar gaiin
41 views
تلاش یار میں جاں سے گزر کے دیکھتے ہیں جو خاک ہیں تو زمیں پر بکھر کے دیکھتے ہیں وہ کس نے دیکھی ہے گہرائی شام فرقت کی افق کے پار زمیں پر اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی نگاہیں شکار کرتی ہیں کرشمے ہم بھی چلو فتنہ گر کے دیکھتے ہیں اگر گلاب ہی ان کو پسند آتے ہیں تو کیوں نہ آج سے ہم بھی سنور کے دیکھتے ہیں یہ کون شخص ہے جانے کدھر سے آیا ہے دیوانے سارے ہمیں شہر بھر کے دیکھتے ہیں خدا انہیں تو برے دن کبھی نہ دکھلائے وہ حوصلے جو ہمارے جگر کے دیکھتے ہیں ہماری آنکھوں میں چشمے سے پھوٹ پڑتے ہیں کبھی کبھی وہ ہمیں آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں کلیجہ تھام کے رکھنا اے دوست محفل میں وہ کیا سے کیا نہ ستم ہم پہ کر کے دیکھتے ہیں ہمارے سر پہ قیامت سی ٹوٹ پڑتی ہے کبھی زمیں سے ذرا سا ابھر کے دیکھتے ہیں تلاش یار میں رہتی ہے میری تنہائی دیار غیر میں کیا کیا نہ کر کے دیکھتے ہیں مرا ہی عکس ہے مجھ سے خفا خفا برہمؔ تو کیوں نہ اس کے ہی ہاتھوں سے مر کے دیکھتے ہیں
talaash-e-yaar mein jaan se guzar ke dekhte hain
40 views
ہم ایک آنکھ ان کو نہ بھائے گئے ہیں مگر پھر وہ کیوں مسکرائے گئے ہیں نہ داماں نہ ساماں نہ تقدیر اپنی فقیری میں کیوں ہم ستائے گئے ہیں کوئی ہم سا رسوا نہ ہوگا جہاں میں جہاں سے بھی نکلے نکالے گئے ہیں بڑھے ہی چلے جا رہے ہیں اندھیرے نہ جانے کہاں پر اجالے گئے ہیں کہاں راز ہستی کہاں تیرے جلوے یہ پردے بھی کیسے گرائے گئے ہیں قسم کھا کے سر کی وہ کہتے ہیں برہمؔ یہ گیسو تمہارے سنوارے گئے ہیں
ham ek aankh un ko na bhaae gae hain
40 views
محفل میں بار بار جو ہم پر نظر گئی ہر دل پہ جیسے لہر قیامت گزر گئی کر کے امید زندگی جیتے رہے ہیں ہم اب کہ امید زندگی جانے کدھر گئی ملنا تمہارا جیسے بہاروں کا انبساط پوچھا جو میرا حال تو قسمت سنور گئی وہ کیا خبر تھی جس نے ہمیں بے خبر کیا وہ کیا نظر تھی زخم جگر تک اتر گئی کیسے ہوئے فریفتہ یہ راز ہی رہا شاید نگاہ یار بڑا کام کر گئی الجھے ہیں اس طرح سے غم روزگار میں لذت غم فراق کی شام و سحر گئی اے حسن تیرے چاہنے والوں کی خیر ہو اے عشق تیری آہ و فغاں بے اثر گئی ہر دل سلگ رہا ہے محبت کی آگ میں جانے بلائے عشق بھی کس کس کے گھر گئی بدنام کر گئی ہے ہمیں رسم دلبری جو بھی نظر اٹھی ہے وہ ہم پر ٹھہر گئی میری کتاب غم کا بھی قصہ ہوا تمام اس شہر نا شناس میں وہ دربدر گئی برہمؔ گیا ہے کام سے دل بھی ہمارے ساتھ آیا خیال یار تو بھی آنکھ بھر گئی
mahfil mein baar baar jo ham par nazar gai
40 views





