SHAWORDS
Aftab Shakeel

Aftab Shakeel

Aftab Shakeel

Aftab Shakeel

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

تری چشم تر میں رواں دواں غم عشق کا جو ملال ہے یہ ہی انتہائے فراق ہے یہ ہی انتہائے وصال ہے ہے قریب پھر بھی ہے اجنبی تو ادھر نہیں میں ادھر نہیں کسی راہ کے ہیں دو سمت ہم میں جنوب ہوں تو شمال ہے مری حالتوں میں نہاں ہیں اب تری جستجو کی خرابیاں نہ میں غم زدہ نہ میں شادماں مرا حال بھی کوئی حال ہے تو ستم کرے تو عنایتیں میں گلا کروں تو شکایتیں ترا ہر سخن وہی عرش کی میرا بولنا بھی محال ہے وہ برا کہے مجھے رات دن یہ رضا ہے اس کے مزاج کی اسے آفیؔ میں بھی برا کہوں کہاں مجھ میں اتنی مجال ہے

tiri chashm-e-tar mein ravaan-davaan gham-e-ishq kaa jo malaal hai

41 views

غزل · Ghazal

جو تھا ہر آن مبتلا میرا وہ بھی سمجھا نہ ماجرا میرا ہے محبت میں کچھ ہوس پنہاں تو نہ کریو کبھی کہا میرا تیرے نزدیک رہ کے بھی تجھ سے کم ہی کم واسطہ رہا میرا سب سے اول ہے بات گڑھنے میں ہائے ظالم معاشرہ میرا اتنا ویران تھا میں اندر سے مجھ میں من ہی نہیں لگا میرا کاش تو دھوپ کی سڑک ہوتی عکس پھر تجھ پہ دوڑتا میرا مختلف ہے خدا زمانے کے جانے ہو کون سا خدا میرا کون آفیؔ بنے مجھے پھر سے ہاتھ آتا نہیں سرا میرا

jo thaa har aan mubtalaa meraa

41 views

غزل · Ghazal

یہاں وہاں سے ادھر ادھر سے نہ جانے کیسے کہاں سے نکلے خوشی سے جینے کی جستجو میں ہزار غم ایک جاں سے نکلے یہ کمتری برتری کے فتنے یہ عام و اعلیٰ کے سرد جھگڑے ہمیں نے نازو سے دل میں پالے ہمارے ہی درمیاں سے نکلے خلوص کی گفتگو تو چھوڑو کسی کو فرصت نہیں ہے خود سے میاں غنیمت سمجھ لو شکوے اگر کسی کی زباں سے نکلے جو بعد مدت ملا کہیں وہ گلے یوں آنکھوں سے اس کی ابھرے کے جیسے پتھر صدی پرانے کسی شکستہ مکاں سے نکلے یہ شہر غم کی گلی گلی میں جو خوار پھرتے ہیں کچھ دوانے کبھی ہوئے ہیں جہاں سے رسوا کبھی ترے آستاں سے نکلے

yahaan-vahaan se idhar-udhar se na jaane kaise kahaan se nikle

40 views

غزل · Ghazal

خوش مزاجی کا دکھاوا بھی نہیں کر سکتے ہم وہ کاہل ہیں جو اتنا بھی نہیں کر سکتے وہ سناتے ہیں رہائی کے فریضے سب کو جو رہا ایک پرندہ بھی نہیں کر سکتے کتنے مجبور ہیں ہم عام سی شکلوں والے خود کو ایجاد دوبارہ بھی نہیں کر سکتے چاہتے ہیں جسے دشمن کی نواسی نکلی اب تو ہم عشق ادھورا بھی نہیں کر سکتے اس لیے بنتا نہیں طنز تماشے پہ مرے یاں تو کچھ لوگ تماشہ بھی نہیں کر سکتے جسم سانسو کی ستم گار روانہ سے میاں ایسا بکھرا ہے اکٹھا بھی نہیں کر سکتے

khush-mizaaji kaa dikhaavaa bhi nahin kar sakte

40 views

غزل · Ghazal

عشق کی عمر جب اچھال کی تھی کیوں تمنا تجھے زوال کی تھی دو ٹکا تھا مرے جواب کا مول دھوم ہر سو ترے سوال کی تھی دل جو ٹوٹا تو یاد آیا ہمیں چیز یہ کتنے دیکھ بھال کی تھی تھا بڑا ہجر کا ملال مگر کیا کروں بات ہی ملال کی تھی اچھے دن وہ بھی اب میاں جاؤ یہ کہانی تو پچھلے سال کی تھی ساتھ لے آیا اپنے خاموشی آرزو جس کو بول چال کی تھی منزل مرگ پا کے ختم ہوئی اف کے دشواریاں بھی حال کی تھی ہم تھے مغرور نوجواں آفیؔ کچھ اکڑ ان میں بھی جمال کی تھی

ishq ki umr jab uchhaal ki thi

40 views

غزل · Ghazal

میری مٹی سے اگر روح نکالی جائے اس میں یہ تو نہیں تصدیق کرا لی جائے میں تجھے خواب میں یوں خواب سجاتا دیکھوں جیسے تصویر میں تصویر بنا لی جائے تم اگر چاہو مرا ہاتھ جھٹک سکتی ہو جس گھڑی تم سے میری بات نہ ٹالی جائے کوئی امید نہیں تم سے مگر چپ کے سبب دل کو بہلانا ہے آواز لگا لی جائے

meri miTTi se agar ruuh nikaali jaae

40 views

Similar Poets