SHAWORDS
Afzal Safi

Afzal Safi

Afzal Safi

Afzal Safi

poet
19Ghazal

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

soch nikhri hai aagahi chup hai

سوچ نکھری ہے آگہی چپ ہے دیکھ کتنی ہری بھری چپ ہے درد پھیلا ہے کہکشاؤں میں سر سسکتے ہیں راگنی چپ ہے ایسے گونجی ہے تیرگی شب کی سب ستاروں کی روشنی چپ ہے میرے ہونٹوں پہ سرخ نغمے ہیں تیرے ہونٹوں پہ سرمئی چپ ہے اک تحیر نے اس کو سینچا ہے میرے لب پر اگی ہوئی چپ ہے ایک چپ ہے جہان میں پھیلی شہر ویراں گلی گلی چپ ہے آبلہ پا ہیں دشت میں دونوں قیس روتا ہے اور صفیؔ چپ ہے

غزل · Ghazal

charaagh-e-nur thaame dasht se jugnu nikal aae

چراغ نور تھامے دشت سے جگنو نکل آئے پلٹ کر دیکھ لیں شاید کوئی پہلو نکل آئے تمہارے ہجر میں پتھرا گئی ہے آنکھ ساون کی ملو ہم سے کہ یوں شاید کوئی آنسو نکل آئے ہمہ تن رقص رہتا ہوں یہی میں سوچ کے شاید تمنا سوز صحرا سے کوئی آہو نکل آئے یہ کوئے یار ہے کوئی کرشمہ ہو بھی سکتا ہے اگر اس حبس میں اس سمت سے خوشبو نکل آئے جکڑ رکھا ہے پورے زور سے کس نے شکنجے میں مجھے لگتا ہے تیری یاد کے بازو نکل آئے انائیں ترک کرنے کا صفیؔ بس ایک رستہ ہے ادھر سے میں اگر نکلوں ادھر سے تو نکل آئے

غزل · Ghazal

main agar naqsh banaaun vo miTaa saktaa hai

میں اگر نقش بناؤں وہ مٹا سکتا ہے عشق آندھی ہے گھنے پیڑ گرا سکتا ہے خواب کیا ہے یہ دہکتا ہوا انگارہ ہے چشم برفاب میں بھی آگ لگا سکتا ہے صرف آنکھیں ہی نہیں سارا بدن خستہ ہے دیکھ یہ ہجر کسی سمت سے آ سکتا ہے میرے سینے پہ لگے زخم گواہی دینا پھول کھل جائے تو ماحول سجا سکتا ہے وقت مرہم ہے یہ ہنستا ہے ہنساتا ہے میاں یہ تو تقدیر کے ماتم کو بھلا سکتا ہے کیا خبر کون ہے صوفی ہے قلندر ہے کہ غوث میرے اندر ہی تو ہے مجھ کو بلا سکتا ہے کتنا تنہائی کا سناٹا ہے چاروں جانب سانس لینے سے بھی اک شور سا آ سکتا ہے خود سے بچھڑا تو ترے در پہ چلا آیا ہوں ایک تو ہے جو مجھے مجھ سے ملا سکتا ہے میں محبت ہوں ازل اور ابد مجھ میں ہیں مجھ سوا کون صفیؔ مجھ کو سما سکتا ہے

غزل · Ghazal

simTe hain khud mein aise ki vusat nahin rahi

سمٹے ہیں خود میں ایسے کہ وسعت نہیں رہی تسخیر کائنات کی ہمت نہیں رہی اب کے خزاں کے خوف سے پتے نہیں جھڑے شاید ہوا کے دل میں کدورت نہیں رہی میں نے کہا کہ کوئی ہو خدمت مرے حضور اس نے کہا کہ تیری ضرورت نہیں رہی جکڑا ہوا ہوں وقت کی آکاس بیل میں اس کرب سے فرار کی صورت نہیں رہی چہروں کی بازیافت سے میں تھک گیا صفیؔ اور خون میں بھی پہلی حرارت نہیں رہی

غزل · Ghazal

main vaarafta sitaaro kaa miri manzil to aage hai

میں وارفتہ ستارو کا مری منزل تو آگے ہے میں راہی رہ گزاروں کا مری منزل تو آگے ہے نہ پھولوں کی تمنا ہے نہ خوشبو سے کوئی مطلب نہ میں دشمن ہوں خاروں کا مری منزل تو آگے ہے مجھے غوطے لگانے ہیں مجھے گوہر سے مطلب ہے نہیں خواہاں کناروں کا مری منزل تو آگے ہے اندھیروں میں چمکتا ہوں سدا گردش میں رہتا ہوں میں ساتھی شب کے تاروں کا مری منزل تو آگے ہے نہ تھک کر بیٹھ سکتا ہوں نہ شاکی ہوں مقدر کا عصا ہوں بے سہاروں کا مری منزل تو آگے ہے

غزل · Ghazal

tum bhi the sar-e-daar sar-e-daar thaa main bhi

تم بھی تھے سر دار سر دار تھا میں بھی تم دیکھ تو لیتے کہ نمودار تھا میں بھی یہ جسم رکاوٹ تھا میرے عشق میں شاید اور سچ ہے کہ اس جسم سے بیزار تھا میں بھی ممکن ہے کہ بیتاب رہا ہو کبھی تو بھی یادوں کی اذیت میں گرفتار تھا میں بھی بازار میں لایا گیا یوسف کی طرح میں کچھ دیر سہی رونق بازار تھا میں بھی خود اپنے تعاقب میں نکل آیا تھا گھر سے خود اپنی عداوت میں گرفتار تھا میں بھی چہروں کی جگہ صرف خراشیں ہیں نمایاں بستی میں کبھی آئینہ بردار تھا میں بھی اے گردش دوراں یہ تغیر نہیں اچھا تو سوچ کبھی صاحب دستار تھا میں بھی خود بیچنے نکلا تھا صفیؔ خود کو جہاں میں اور بھیڑ میں خود اپنا خریدار تھا میں بھی

Similar Poets